تعریف کی جا تی ہے کہ اس کی نظیر ۱۳ سا ل میں کہیں نہیں ملتی اور اب جب وہ درخت پگلا اور پھو لا اور نشوونما پائی تواس کے وجود سے انکار کیا جا تا ہے ابتدا میں ہمارے دعویٰ کی مثال رات کی تھی اس وقت تو شپر کی طرح اسے قبول اور پسند کیا اور اب جب دن چڑھا اور سورج کی طرح وہ چمکا تو آنکھ بند کر لی۔ جن ایام میں شناخت کے آثار نہ تھے اور اس وقت یہ امر مستور تھاتوریویو لکھے اور را ئے طاہر کی اب یہ وقت آیا تھا کہ وہ اپنے ریویو پر فخر کرتا کہ دیکھو جو با تیں مَیں نے اول کہی تھیں وہ آج پوری ہو رہی ہیں اور میری اس فراست کے شواہد پیدا ہو گئے ہیں مگر افسوس کہ اب وہ اپنی فراست کے خود ہی دشمن ہو گئے ہم نے کو نسی با ت نئی کی ہے جس حکم کے وہ لوگ منتظر ہیں بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ کیا اس نے آکر ہر ایک رطب ویا بس کو قبول کر لینا ہے اور وہ وحی کی پیروی کر ے گا یاکہ ان مختلف مو لو یوں کی ؟ اس نے آکر انہی کی ساری با تیں قبول کر لنیی ہیں تو پھر اس کا وجود بہیودہ ہے ۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ صفحہ ۱۲۳ مورخہ ۸ ؍مئی ۱۹۰۳؁ئ) دربارِشام دعا کے جواب میں ایک الہام فر ما یا :۔ آج ہم نے عام طور پر بہت سے بیماروں کے لیے دعا کی تھی جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا’’آثار صحت‘‘ یہ نہیں معلوم کہ کس شخص کے متعلق ہے دعا عام تھی ۔ ہدایت مجاہدہ اور تقویٰ پر منحصر ہے فرمایا کہ جو شخص محض اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی راہ کی تلاش میں کوشش کرتا ہے اور اس سے اس امر کی گرہ کشائی کے لیے دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون والذین جاھدو افینا لنھد ینھم سبلنا یعنی جو لوگ ہم میںسے ہو کر کوشش کرتے ہیں ہم اپنی راہیں ان کو دکھا دیتے ہیں)کے موافق کود ہاتھ پکڑ کر راہ دکھا دیتا ہے اور اسے اطمینانِ قلب عطا کرتا ہے اور اگر خود دل کو ظلمت کدہ اور زبان دعا سے بوجھل ہو اور اعتقاد شرک وبدعت سے ملوث ہو تو وہ دعا ہی کیا ہے اور وہ ہی کیا ہے جس پر نتائج ِ حسنہ مترتب نہ ہوں ۔جب تک انسان پاک دل اورصدق و خلوص سے تمام ناجائز رستوں اور اُمیدوں کے دروازوں کو اپنے اوپر بند کرکے خدا تعالیٰ ہی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا ۔اس وقت تک وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اورتائید اُسے ملے لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ ہی کے دروازے پر گر تا اور اسی سے دُعا کرتا ہے تو اس کی یہ حالت جاذبِ نصرت اور رحمت ہوتی ہے ۔خدا تعالیٰ آسمان سے انسان کے دل کے کونوں میں جھانکتا ہے اور اگر کسی کونے میں بھی کسی قسم کی ضلمت یا شرک و بد عت کا کوئی حصّہ ہوتا ہے تو اُسکی دُعائوں اور عبادتوں