کر نی چا ہتا ہے ؟افسوس ہے یہ لوگ مسلمان کہلا کر اور آپ کا کلمہ پڑھ کر بھی آنحضرت ﷺ کی تو ہین کرتے ہیں اور آپ کو خاتم النبیین مان کر پھر آپ کی مہر کو توڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر بھی الزام لگا تے ہیں کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اس قدر تعریفوں کے بعد قرآن شریف میں آپ کی کی گئی ہیں آپ سے یہ سلوک کر ے معاذاللہ ۔
ایک غلو کا جواب
شیعہ لوگوں کے ذکر پر فر ما یا :۔
ہمیں ان لوگوں کی حالت پر رحم آتا ہے اگر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایسی ہی شان اور عظمت تھی جو یہ بیان کرتے ہیںاورکل نبیوں کی نجات ان ہی کی شفا عت سے ہو ئی ہے تو پھر تعجب ہے کہ قرآن شریف میں آی کا نام ایک مر تبہ بھی اللہ تعالیٰ نے نہ لیا ۔زیدؓ جو ایک معمولی صحابی تھے ان کا نام تو قرآن شریف نے لے لیا مگر امام حسین رضی اللہ عنہ کا جو ایسے جلیل القدر منحبی اور کل انبیا ء علیہم السلام کے شفیع تھے ان کا نام بھی قرآن شر یف نے نہ لیا کیا قرآن شریف کو بھی ان سے کچھ عداوت تھی ؟
اگر کو ئی یہ کہے کہ قرآن شریف میں تحریف ہو گئی ہے ۱؎ اور آپ کا نام بھی محرگف مبدل ہو گیا ہو گا تو یہ الزام بھی انہی کی گردن پر ہے کیو نکہ جن کی طرف یہ تحریف منسوب کی جا تی ہے ان کی وفات کے بعد جناب علی رضی اللہ عنہ تو زندہ تھے اور وہ اپنے وقت کے مقتد رخلیفہ تھے شیر خدا تھے جب ان کو یہ معلوم تھا کہ اس قرآن میں تحریف کی گئی ہے تو کیوں انہوں نے اس کو درست نہ کیا؟ ان کو چاہیئے تھا کہ اصل قرآن شریف کی اشاعت کرتے اوراس کو درست کر دیتے ،لیکن جبکہ انہوں نے بھی یہی قرآن رکھا اور اپنا صحیح اور درست قرآن شائع نہ کیا تو یہ الزام بھی ان کے اپنے ہی سررہا ان کا حق تھا اور ان پر فرض تھا کہ جب اصل قرآن شریف گم کر دیا گیا تھا تواس وقت تو بھلا وہ خوف کے مارے کچھ نہ کر سکتے تھے مگر ان کی وفات کے بعد توان کو موقعہ تھا کہ لوگوں میں اس امر کا اعلان کر دیتے کہ اصل قرآن شریف یہ ہے اور جو تمہارے پاس ہے وہ محرف مبدل ہو گیا ہے مگر جب انہوں نے ایسا نہیں کیا تو پھر یہ الزام ان ہر رہا ۔ (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۷ صفحہ ۱۳ مورخہ ۱۰ ؍مئی ۱۹۰۳ئ)
ھوشعنا
براہین میں یہ ایک الہام حضرت اقدس کا درج ہے یہ ایک عبرانی لفظ ہے جس کے معنے ہیں ’’نجات دے ‘‘ فر ما یا کہ :۔
یامسیح الخلق عدوانا
کا مضمون اس سے ملتا جلتا ہے
مامور کی اطاعت کا معیار
فر ما یا:۔
ایک مامور کی اطاعت اس طرح ہو نی چا ہییے کہ اگر ایک حکم کسی کو دیاجاوے تو خواہ اس کو مقابلہ پر دشمن کیسا ہی لا لچ اور طمع کیو ں نہ دیوے یا کسی ہی عجز ۔انکساری اور خوشا مد