یحییٰ کی پیدا ئش کا ذکر کر کے کیوں ساتھ ہی مریم کا ذکر چھیڑدیا؟ اس سے کیا فائدہ تھا؟ اسی لیے کیا تا ویل کی گنجائش نہ رہے ان دونو بیانوں کو ایک جاذکر کر نا اعجازی امر کو ثابت کرتا ہے اگر یہ نہیں ہے تو گو یا قرآن تنزل پر آتا ہے جو کہ اس کی شان کے برخلاف ہے ۔ پھر اس کے علاوہ یہ بھی فر ما یا کہ ان مثل عیسی عند اللہ کمثل ادم(الٰ عمران :۶۰) اگر مسیحؑ بن باپ کے نہ تھا تو آدم سے مماثلت کیا ہو ئی ؟اور وہ کیا اعتراض مسیحؑ پر تھا جس کا یہ جواب دیا گیا؟ توار یخی بات یہ بھی ہے کہ یہود ٓپ کی پیدا ئش کو اسی لیے نا جائز قرار دتیے تھے کہ آپ کا باپ کو ئی نہ تھا اس پر خدا نے یہود کو جواب دیا کہ آدم بھی تو بلا باپ پیدا ہو ا تھا بلا ماں بھی بہ اعتبار واقعات کے جواعتراض ہوا کرتے ہیں ان سے جواب کو دیکھنا چا ہیئے اور اگر کو ئی اسے خلاف قانون قدرت قرار دیتا ہے تواول قانون قدرت کی حد بست دکھلا وے ۔ (البدر ؔجلد۲نمبر۱۶صفحہ ۱۲۱مورخہ ۸؍مئی۱۹۰۳ئ؁) یکم مئی۱۹۰۳ئ؁ دربار شام ایک رئو یا فرمایا کہ:۔ایک رئو یا تھی تو وحشت ناک مگر اللہ نے ٹال ہی دیا۔دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ بیل کو میدان میں ذبح کریںگے۔ مگر عملی کاروائی نہ ہوئی۔ ذبح نہ ہو کہ جاگ آگئی۔ آنحضرت ﷺکی قبر میں مسیح موعودؑ کے دفن ہونے کا سرّ رسول اللہ ﷺنے جو یہ فرمایا ہے کہ مسیح موعودؑ کی قبر میں ہو گی۔اس پر ہم نے سوچا کہ یہ کیا سر ہے تو معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہر ایک قسم کی دُورکو دُور کرتا ہے اور اس سے اپنے اور مسیح موعود کے وجود میں ایک اتحاد کا ہونا ثابت کیا ہے اور ظاہر کردیا ہے کہ کوئی شخص باہر سے آنے والا نہیں ہے بلکہ مسیح موعود کاآنا گویا آنحضرت ﷺ ہی کا آنا ہے جو بروزی رنگ رکھتا ہے۔اگر کوئی اور شخص آتا ہے تو اس دُوئی لازم آتیاور غیرت نبوی کے تقاضے کے خلاف ہوتا۔ بروز میں دُوئی نہیں ہوتی اگر کو ئی غیرشخص آجاوے توغیرت ہو تی ہے لیکن جب وہ خود ہی آوے تو پھر غیرت کیسی ؟اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر ایک شخص آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھے اور پاس اس کی بیوی بھی موجودہ ہو تو کیا اس کی بیوی آئینہ والی تصویر کو دیکھ کر پردہ کر لگی اور اس