بند نہیں ہو گی جبتک وہ ارادہ بکمال وتمام پورا نہ ہو جاوے جوآسمان پر قرار پایا ہے اور ضرور ہے کہ زمین اپنے مواد نکالتی رہے جب تک کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ اپنے کمال کو نہ پہنچے۔ مرزا غلام احمد ایک الہام جو مورخہ ۲۷؍اپریل ۱۹۰۳؁ء کو شام کو بیان فر مایا :۔ رب انی مظلوم فانتصر (البدر ؔجلد۲نمبر۱۵صفحہ ۱۱۷مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ئ؁) ۲۸؍اپر یل ۱۹۰۳؁ء بوقت ظہر مہندی اور وسمہ مہندی اور وسمہ کی نسبت ذکر ہوا ۔حضور نے فر ما یا کہ:۔ اکثر اکا براس طرف گئے ہیں کہ وسمہ نہ لگا نا چا ہیئے یا مہندی لگا ئی جاوے یا وسمہ اور مہندی ملا کر۔ (البدر ؔجلد۲نمبر۱۶صفحہ ۱۲۱مورخہ ۸؍مئی۱۹۰۳ئ؁) ۲۹؍اپریل ۱۹۰۳؁ء مجلس قبل ازعشاء نا پائید ر زند گی ایک شخص کی نئی ایجاد کا ذکر ہوا کہ اس کی ایجاد بہت مقبول ہو ئی ہے اور اس کے ذریعہ سے وہ لکھو کھا روپیہ اب کما ویگا ۔فر ما یا کہ:۔دنیا چندروزہ ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت آوے گی اور ان کی نظر یہاں تک ہی محدو درہتی ہے لیکن اگر زند گی نہ ہو ئی تو کیا فائدہ ؟ لوگوں کا دستور ہے کہ ہر ایک پہلو پر نظر نہیں ڈالتے ۔ (البدر ؔجلد۲نمبر۱۶صفحہ ۱۲۱مورخہ ۸؍مئی۱۹۰۳ئ؁)