آٓئے اسوقت ساتویں صدی میں ضرورت پڑی تو کیا اب چودہویں صدی بھی ضرورت نہ پڑتی اور پھر جس حال میں کہ ایک ملہم ایک صحیح حدیث کو وضعی اور وضعی کو صحیح بذریعہ الہام قرار دے سکتا ہے اور یہ اصول ان لوگوں کا مسلم ہے تو پھر حکم کو کیوں اختیار نہیں ہے ؟ایک حدیث کیا اگر وہ ایک لاکھ حدیث بھی پیش کر یں توان کی پیش کب چل سکتی ہے ؟
العزۃللہ
مولوی محمدی حسین صاحب بٹالوی کے ذکر پر فر ما یا کہ:۔
انہوں نے لکھا تھا کہ ہم ہی نے اونچا کیا تھا اور ہم ہی اسے نیچا گرادیں گے مگر ہم پو چھتے ہیں کہ انہوں نے چڑ ھا نے کے لیے کیا کو شش کی تھی ہم پر تو سوائے خدا تعالیٰ کے کسی کاذرہ بھر بھی احسان نہیں ہاں اب گرانے کے لیے انہوں نے بہت کو شش کی اور جتنی اس نے کی اور کسی نے مطلق نہیں کی مگر خدا تعالیٰ کے آگے کس کی پیش چلتی ہے ۔
اس کے بعد مو لوی صاحب کی شہادت قتل کے مقدمہ ہیں اور وہاں کر سی وغیرہ ما نگنے کا ذکر ہو تا رہا اس پر حضرت نے فر ما یا کہ :۔
قلوب میں عظمت ڈالنا خدا کا کام ہے َ
علماء دین کے واسطے ظاہر ی بلندی چا ہنی عیب میں داخل ہے قلوب میں عظمت ڈالنی انسانی ہاتھ کا کام نہیں ہے یہ ایک کشش ہو تی ہے جو کہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے ہو تی ہے ہم کیا کر رہے ہیں جو ہزارہا آدمی کھنچے چلے آتے ہیں یہ سب خدا تعالیٰ کی کشش ہے ان لوگوں کی علمیت اور حکمت دانا ئی ان کے کچھ کام نہ آئی مثنوی میں ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک شخص دولت مند تھا مگر بیچا رے کی عقل کم تھی وہ کہیں جا نے لگا تواس نے گدھے پر بورے میں ایک طرف جواہرڈالے اوروزن کو برابر کر نے کے واسطے ایک طرف اتنی ہی ریت ڈال دی آگے چلتے چلتے اسے ایک شخص دانشمند ملا مگر کپڑے پھٹے ہو ئے ،بھوک کا مارا ہوا سر پرپگڑی نہیں اس نے اس کو مشورہ دیا کہ تو نے ان جوارات کو نصف کیوں نہ دونو طرف ڈالا اب نا حق جانور کو تکلیف ہے دے رہا ہے اس نے جواب دیا کہ مَیں تیری عقل نہیں برتتا تیری عقل کے ساتھ نحوست ہے بلکہ میں تجھ بد بخت کا مشورہ بھی قبول نہیں کرتا ۔
فر وتنی
انسا ن کو چا ہیئے جب کہیں جاوے توسب سے نیچی جگہ اپنے لیے تجویز کرے اگر وہ کسی اَور جگہ کے لائق ہو گا تو میز بان خود اسے بلا کر جگہ دیگا اور اس کی عزت کر یگا۔
عوام الناس کی کم فہمی
جن لوگوں کے دل میں کجی ہووہ متشا بہات کی طرف جاتے ہیں جن لوگوں نے حضرت موسیٰؑ اورعیسیٰؑ اورآنحضرتﷺ کو قبول نہ کیا انہوں نے آیات ِمبینہ سے فا ئدہ نہیں