ہو سکتا۔ اس لیے انبیاء سے اجتہاد میں غلطی واقع ہوتی رہی ہیں اور پھر جب خدا تعالیٰ نے اس پر اطلاع دی تو ان کو علم ہوا۔یہودیون کو مسیحؑ کے وقت یہی مغالطہ ہوا۔انہوں نے کہا کہاںدائود کی بادشاہت قائم ہوئی ۔
اور یہی دعویٰ آخر کار رخنہ کا موجب ہوا۔اگر پیغمبر پر ہر ایک تفصیل کھول دی جاتی تو پھر ہر ایک پیغمبر کو یہ علم ہوتا کہ میرے بعد فلاں پیغمبر آوے گا اور موسیٰ علیہ السلام کو علم ہوتا کہ میرے بعد آنحضرت ﷺ ہونگے حالانکہ ان کا یہی خیال ہوگا کہ آپ بنی اسرائیل سے ہوں گے۔اسی طرح آئندہ کے امور بعض وقت ایک نبی پر منکشف کئے جاتے ہیں مگر تفصیلی علم نہیں دیا جاتا۔پھر جب ان کا وہ وقت آتا ہے تو خود بخود حقیقت کھل جاتی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جو حکم ہو کر آئے تھے تو کیا آپ نے یہود کی کل باتیں تسلیم کرلی تھیں؟
مجلس قبل از عشاء
دینی غیرت
ایک مقام کے چند ایک احباب آریوں کے ایک ایسے جلسے میں گئے تھے جہاں آنحضرت ﷺ اور آپ کی پاک تعلیم پر نا جائز اور فحش سے بھر ے ہو ئے نا معقول حملے ہو رہے تھے اس پر حضرتاقدس نے نا راضگی کا اظہا کیا اور فر ما یا :۔
یہ لوگ ایسی محفلوں میں کیوں جا تے ہیں ؟اور جب ایسے ذکر اذ کا ر شروع ہوں تو کیوں نہیں اٹھ کر چکے آتے ؟
ہماری رائے میں ہمارے احباب کو یہ طریق اختیار کر نا چاہیئے کہ اپنی ہفتہ وار کمیٹی میں ایسی با توں کی تردید کیا کریں اور بذریعہ اشتہار ان تمام لوگوں کو مدعو کیا کریں جو کہ اعتراض کر تے ہیں یہ طریق نہایت امن اور عمد ہ تبلیغ حق کا ہے اور غیرت دینی کے بہت اقرب ہے ۔
نبوت کا اقرار اور انکار
اعتراض ۔ایک شخص کی طرف سے یہ سوال پیش ہواکہ مرزا صاحب اپنی تصنیفات میں کہیں نبوت کی نفی کرتے ہیں اور کہیں جواز۔
جواب۔ فر ما یا ۔ یہ اس کی غلطی ہے ہم اگر نبی کا لفظ اپنے متعلق استمعال کر تے ہیں تو ہم ہمیشہ وہ مفہوم لیتے ہیں جو کہ ختم ِنبوت کا مخل نہیں ہے اور جب اس کی نفی کرتے ہیں تووہ معنے مراد ہو تے ہیں جو ختم ِنبوت کے مخل ہیں ۔
نیوگ اور طلاق میں سے کو نساامر کا نشنس کے خلاف ہے
طلاق پر آریوں کے اعتراض سنکر فر ما یا کہ :۔