اصل میں اگر کوئی صاف دل اور بے تعصب ہو کر ہمارے دلائل سنے تو اس کو معلوم ہوجاوے کہ درحقیقت ہم حق پر ہیں۔ہمارا ان کا اختلاف ہی کیا ہے۔ وفات مسیح علیہ السلام مسیحؑ کی حیات ممات کا بڑا مسئلہ ہے اور یہ ایسا صاف ہے کہ اس میں زیادہ بحث کی ضرورت نہیں پڑتی۔شروع سے یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے اور وفاتِ مسیحؑ اکثر اکا بران ملت کا مذہب ہے۔صحابہؓ کا یہی مذہب تھا۔ احیاء موتیٰ رہا حضرت عیسیٰ کا احیاء موتیٰ۔اس میں روحانی احیاء نوتیٰ کے تو ہم بھی قائل ہیں۔اور ہم مانتے ہیں کہ روحانی طور پر مُردے زندہ ہوا کرتے ہیں اور اگر یہ کہو کہ ایک شخص مر گیا اور پھر زندہ ہوگیا۔تو یہ قرآن شریف یا احادیث سے ثابت نہیںہے اور ایسا ماننے سے پھرقرآن شریف اور احادیث نبوی گویا ساری شریعت اسلام ہی کو ناقص ماننا پڑے گا کیونکہ رد الموتیٰ کے متعلق مسائل نہ قرآن شریف میں ہیں نہ حدیث نے کہیں ان کی صراحت کی ہے۔اور نہ فقہ میں کوئی بات اس کے متعلق ہے۔غرض کسی نے بھی اس کی تشریح نہیںکی۔اس طرح پر یہ مسئلہ بھی صاف ہے۔ ۱؎ خلق طیر پھر ان کا جانور بنانا ہے سواس میں بھی ہم اس بات کے قائل ۲ ؎ ہیں کہ روحانی طور سے معجزہ کے طور پر درخت بھی ناچنے لگ جاوے تو ممکن ہے مگر یہ انہوں نے چڑیاں بنا دیں اور انڈے بچے دے دئیے اس کے ہم قائل نہیں ہیں اور نہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہے۔ہم کیا کریں ہم اس طور پر ان باتوں کو مان ہی نہیں سکتے جس طرح پر ہمارے مخالف کہتے ہیں۔کیونکہ قرآن شریف صریح اس کے خلاف ہے اور وہ ہماری تائید میں کھڑا ہے اور دوسری طرف بار بار کثرت کے ساتھ ہمیں الہام الہیٰ کہتا ہے۔ قل عندی شھادۃ من اللہ فھل انتم مومنون۔قل عندی شھادۃ من اللہ فھل انتم مسلمون۔ اب ان الہامات کے بعد ہم اَور کس کی بات سنیں؟ اور وہ کون ہے جس کی آواز خدا تعالیٰ کی ان آوازوں