مقبول نیک آدمی کی نسبت کہا جاوے کہ وہ تو زانی نہیں یہ اس کی ایک رنگ میں ہتک ہے آنحضرت ﷺکوتو خود اہل مکہ تسلیم کر چکے ہوئے تھے کہ مس شیطان سے پاک ہیں تب ہی تو آپ کا نا م انہوں نے امین اکھا ہوا تھا اور آپ نے ان پر تحّدی کی کہ فقد لبثت فیکم عمرا(یونس:۱۷) پھر کیا ضرورت تھی کہ آپ کی نسبت بھی کہا جاتا۔یہ الفاظ حضرت مسیؑح کی عزت کو بڑھانے والے نہیں ہیں۔انکی برات کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایک کلنک کا بھی پتہ دے دیتے ہیں کہ ان پر الزام تھا۔ یاد رکھو کہ کلمہ اور روح کا لفظ عام ہے۔حضرت مسیؑح کی کوئی خصوصیت اس میں نہیں ہے۔ یومن باللہ وکلماتہ (الاعراف:۱۵۹) اب اللہ تعالیٰ کے کلمات تو لا انتہا ہیں اور ایسا ہی صحابہ کی تعریف میں آیا ہے اید ھم بروح منہ (امجادلۃ:۲۳) پھرمسیؑح کی کیا خصوصیت رہی؟حضرت مسیؑح کی ماں کی نسبت جو صدیقہ کا لفظ آیا ہے یہ بھی دراصل رفع الزام ہی کے لیے آیا ہے یہودی جو معاذ اللہ ان کو فاسقہ فاجرہ ٹھہراتے تھے۔قرآن شریف نے صدیقہ کہہ کر ان کے الزاموں کو دور کیا ہے کہ وہ صدیقہ تھیں۔اس سے کوئی خصوصیت اور فخر ثابت نہیں ہوتا اور نہ عیسائی کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں بلکہ ان کو تو یہ امور پیش بھی نہیں کرنے چاہیئں ۔ (الحکم جلد۷نمبر۱۶صفحہ ۵مورخہ۳۰؍اپریل۱۹۰۳ئ؁) ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳؁ء مجلس قبل ازعشاء ایک اعتراض کا جواب کسی نے اعتراض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں کوئی احمدی طاعون سے فوت ہوتا ہے ؟فرمایا کہ :۔ یہ ان لوگوں کی غلط فہمی ہے کہ انجام کو نہیں دیکھتے۔آنحضرت ﷺ کے وقت جب ایک طرف کافر مرتے ہوں گے اور ایک طرف صحابہؓ بھی۔تو لوگ اعتراض تو کرتے ہوں گیکہ مرتے تو وہ بھی ہیں پھر فرق کیا؟اس لیے ہمیشہ انجام کو دیکھنا چاہئیے۔ایک وہ وقت تھا کہ آنحضرت ﷺ اکیلے تھے اور کوئی ساتھ نہ تھا ہر ایک مقابلہ کے لیے تیار ہوتا۔اب ہم ان کوگوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر طاعون سے ہمارے مرید مرتے جاتے ہیں تو پھر ہماری ترقی کیوں ہوتی جاتی ہے؟اور ان کی جمعت کیوں گھٹتی جاتی ہے؟ یہ اعتراض تو پھر سب پیغمبروں پر ہوگا اور ہم نے تو اسی لیے کشتی نوح میں لکھ دیا تھا کہ اگر عافیت کا پہلو نسبتاً ہماری طرف ہو تو ہم سچے اور موت تو سب کو آنی ہے۔اس سے کس کو انکار ہے۔