جب کہ اسی خدا ،اسی کی کتاب اور اسی نبی کے اتباع پر ہم چلانا چاہتے ہیں تو پھر ہم کیوں عربی زبان میں مثل لانے کی تحّدی نہ کریں؟ حقیقی جنت مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب میں کسی کتاب کا مضمون لکھنے بیٹھتا ہو ں اور قلم اٹھاتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا کوئی اندر سے بول رہا ہے اور میں لکھتا جا تا ہوں۔اصل یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سلسلہ ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کو سمجھا بھی نہیں سکتے۔خدا تعالیٰ کا چہرہ نظر آجاتا ہے اور میرا ایمان تو یہ ہے کہ جنت ہو یا نہ ہو۔خدا تعالیٰ پر پورا یقین ہونا ہی جنت ہے ۔(الحکم جلد۷نمبر۱۶صفحہ ۵مورخہ۳۰؍اپریل۱۹۰۳ئ؁) ۲۳ اپریل ۱۹۰۳ء ؁ دربارِ شام مسیح کا مقامِ رُوح منہ ایپی فینی میں کسی ہندو نے ایک مضمون شائع کردیا ہے کہ قرآن شریف میں حضرت مسیح ؑکی نسبت روح اللہ کا لفظ آیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب سے افضل ہیںاس پر حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا کہ:۔ اللہ تعالیٰ کا مسیح ؑکو روح منہ فرمانے سے اصلی مطلب یہ ہے کہ تا ان تمام اعتراضات کا جواب دیا جاوے جو ان کی ولادت کے متعلق کئے جاتے ہیں۔یاد رکھو ولادت دو قسم کی ہوتی ہے ایک ولادت تو وہ ہوتی ہے کہ اس میں روح الیٰ کا جلوہ ہوتا ہے اور ایک وہ ہوتی ہے کہ اس میں شیطانی حصہ ہوتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں بھی آیا ہے کہ وشار کھم فی الاموال والاولا د(بنی اسرائیل:۶۵) یہ شیطان کو خطاب ہے غرض خدا تعالیٰ نے روح منہ فرما کر یہودیوں کے اس اعتراض کو رد کیا ہے جو وہ نعوذباللہ حضرت مسیؑح کی ولادت کو ناجائز ٹھہرا تے تھے روح منہ کہہ کر صاف کردیا کہ ان کی ولادت پاک ہے۔ یہودی تو ایسے بیباک اور دلیر تھے کہ ان کے منہ پر بھی ان کی ولادت پر حملہ کرتے تھے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ وہ مس شیطان سے پاک ہیں۔اس میں بھی اس کی تصدیق ہے ورنہ تمام انبیاء اور صلحاء مس شیطان سے پاک ہوتے ہیں۔حضرت مسیؑح کی کوئی خصوصیت نہیں ۔ان کی صراحت اس واسطے کی ہے کہ ان پر ایسے ایسے اعتراض ہوئے اور کسی نبی پر چونکہ اعتراض نہیں ہوئے اسلیئے ان کے لیے صراحت کی ضرورت بھی نہ پڑی دوسرے نبیوں یا آنحضرت ﷺکے متعلق ایسے الفاظ ہوتے تو یہ بھی ایک قسم کی توہین ہے کیونکہ اگر ایک مسلم و