ازدیادِ ایمان
ایمان کی نعت یہی ہے کہ خدائی مصرتوں کو انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔جب وہ خدا تعالیٰ کی نصرتوں کو دیکھتا ہے تب اس کا ایمان بڑھتا ہے اور معرفت اور بصیرت کی آنکھ کھلنے لگتی ہے۔جب تک خدا تعالیٰ کی نصرتوں کی چمک نظر نہیں آتی۔اس وقت یہ حالت تذبذب میں رہتا ہے لیکن جب ان کی چمکار نظر آ جاتی ہے اس وقت سینہ کی غلاظتیںدور ہو جاتی ہیں اور اندر ایک صفائی اور نور نظر آتا ہے۔وہ حالت ہوتی ہے جب اس کے لیے کہا جاتا ہے
اتقو افرا سۃالمومن فانہ ینظر بنور اللہ۔
عابد کامل سے عبادت کا ساقط ہو جانا
اہل اللہ کہتے ہیں کہ انسان جب عابد کامل ہوجا تا ہے اس وقت اس کی ساری عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں۔پھر خود ہی اس جملہ کی شرح کرتے ہیں کہ اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز روزہ معاف ہو جا تا ہے نہین بلکہ اس سے یہ مطلب ہے کہ تکالیف ساقط ہو جاتی ہیں یعنی عبادات کو وہ ایسے طور پر ادا کرتا ہے جیسے دونو وقت روٹی کھا تا ہے وہ تکالیف مدرک الحلاوت اور محسوس ا للذات ہو جاتی ہیں۔پس ایس حالت پیدا کرو کہ تمہاری تکالیف ساقط ہو جائیں اور پھر خدا تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور نہیں سے بچنا فطرتی ہو جاوے۔جب انسان اس مقام پر پہنتا ہے تو گویا ملائکہ میں داخل ہو جا تا ہے جو
یفعلون ما یو مرون
کے مصداق ہیں۔
ثوابِ عبادت ضائع ہونے کا مطلب
سیّد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آدمی عارف اور عابد ہو جا تا ہے تو اسکی عنادت کا ثواب ضائع ہو جا تا ہے۔پھر خود ہی اس کی تشریح کرتے ہیں کہ اس کے یہ معنے ہیں کہ ہر نیکی کا اجر نقد پا لیتے ہیں یعنی جب نفسِ امارہ بدل کر مطمئنہ ہو جاتا ہے تو وہ تو جنت میں پہنچ گیا۔جو کچھ پانا تھا پالیا۔اس لحاظ سے ثواب نہیں رہتا۔مگر بات اصل یہ ہے کہ ترقیات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
عربی میں الہامات کی کثرت کی وجہ
آنحضرت ﷺ کی اِتباع کے سوا اگر ہم کسی اور راستہ پر چلتے تو ہماری کثرتِ الہام کسی دوسری زبان میں ہوتی۔مگر