قمری اور شمسی ہیں جو کہ قمر اور شمس کا گرہن دیکھ کر داخل بیعت ہو ئے ۔
کچھ خوابی ہیں کہ بذریعہ خواب کے ان کی راہنما ئی گئی ۲؎
بعض عقلی ہیں انہوں نے عقل سے کام لے کر بیعت کی ۔بعض نقلی ہیں کہ حدیث آثار وغیرہ دیگر امور کو پورے ہو تے دیکھ کر ایمان لا ئے اور ابھی شا ئدااَور بھی چند قسمیں ہوں۔
ہمارا نقارہ
اعداء کا وجود ہمارا نقارہ ہے یہ انہیں کی مہر با نی ہے کہ تنیلیغ کر تے رہتے ہیں مثنوی میں ایک ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک چور ایک مکان کو نقب لگا رہا تھا ایک شخص نے اوپر سے دیکھ کر کہا کہ کیا کرتا ہے چور نے کہا کہ نقارہ بجارہاہوں اس شخص نے کہا آواز تو نہیں آتی چور نے جواب دیا کہ اس نقارہ کی آواز صبح کو سنا ئی دیوے گی اور ہر ایک سنے گا ایسے ہی یہ لوگ شور مچا تے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں تو لوگوں کو خبر ہو تہ رہتی ہے۔
فلسفہ جدیدہ کا فائدہ
فلسفہ جدیدہ نے اگرچہ نصانا ت بھی پہنچائے ہیں مگر ایک صورت میں یہ مفید بھی ہواہیکہ بہت سی غیر معقول باتوں سے دلوں میں نفرت دلادی ہے مثلاًیہ فرقہ شیعہ کہ جن کی اصلاح کی کبھی امید نہ تھی مگر اس فلسفہ سے متاثر ہو کر وہ بھی راہ راست پر آتے جاتے ہیں۔
صلحاء واتقیاء سے محبت میںغلو نہ کیا جائے
ایک شخص کے سوال پر کہ کیا اولیاء اللہ سے محبت رکھی جاوے کہ نہ فرمایا:۔
ہم اس کے مخالف نہیں ہیں کہ صلحاء ،اتقیاء اور ابرار سے محبت رکھی جاوے مگر حد سے گذر جانا حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ پر ان کو مقدم رکھنا یہ مناسب نہیں ہے جیسے کہ گذشتہ ایام میں بعض شیعہ کی طرف سے ایک کتاب شائع ہوئی اس میں لکھا تھا کہ صرف امام حسین ؑکی شفاعت سے تمام انبیاء نے نجات پائی۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے اور اس میں آنحضرتﷺ کی کسر شان ہے۔اس سے تو ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ نے غلطی کی کہ آنحضرت ﷺ پر قرآن نازل کیا اور حسین ؑپر نہ کیا۔ ۲؎ (البدر جلد۷صفحہ۱۱۵مورخہ یکم مئی۱۹۰۳ئ)