۲۲؍ اپریل ۱۹۰۳ء
(بوقت ِسیر)
گو شت خوری
آریوں کے مسئلہ گو شت خوری پر ذکر چلا فر ما یا کہ :۔
انسانی زند گی کے واسطے دوسری اشیا ء کی ہلا کت لا زمی پڑ ی ہو ئی ہے ۔مثلاً دیکھو ریشم جب ہی حاصل ہو تا ہے جب رشیم کے کیڑے مر یں پھر شہد کی مکھی کب چا ہتی ہے کہ اس کا شہد لیا جا وے اکثر جو نکیں خون پی کر مر جا تی ہیں پھر ہوا میں کیڑے ہیں سانس سے مر تے ہیں جب یکجا ئی نظر سے خدا ئی کے کل دائرے کو دیکھا جا وے تو پھر سمجھ میں آتا ہے کہ دنیا میں سلسلہ آکل اور ما کول کا برابر جا ری ہے اور اس کے بغیر دنیا رہ ہی نہیں سکتی کہ بعض کی جان لی جا وے ورنہ اس طرح تو پھر کدودانہ وغیرہ کیڑے جو پیٹ میں پیدا ہو تے ہیں ان کو بھی نہ ما رنا چا ہیئے ۔
ایک شخص نے کہا کہ حضور آریہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ جوانسان کی طاقت سے با ہر امر ہے۔
اس میں اس پر الزام نہیں ۔فر ما یا کہ :۔
طا قت سے با ہر تو وہ کہا جا وے گا جس کا تعلق انسانی زند گی سے نہ ہو اور جو اس کے اندر ہے وہ سب طاقت میں ہو گا خدا تعالیٰ کا ہی یہ منشا ء ہے کہ انا نی حفاظت کے واسطے بہت جا نوں کو لیا جا وے پھر فطرت انسانی میں بعض قویٰ ایسے ہیں کہ اگر گوشت نہ کھا یا جا وے۔ توان کا نشوونما ہو ہی نہیں سکتا شجاعت پیدا ہی نہیں ہو تی اس لیے سکھ وغیرہ اقوام جو گوشت خورہیں وہ نسبتاً شجاعت بہت زیادہ رکھتے ہیں ۔
اس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ بنگالی گو شت خور ہیں مگر وہ ایسے بہادر نہیں ہو تے ۔فر ما یا :۔
ایسی حالتوں میں قوموں کی مجموعی حالت کو دیکھا کر تے ہیں کہ کس قدر اقوام گو شت خور ہیں اور کسقدر نہیں پھر مقابلتہ دیکھا جا وے کہ کو نسی اقوام شجاعت میں بڑ ھ کر ہیں ۔
مجلس قبل از عشاء
احمدیوں کی اقسام
فر ما یا ۔ ہمارے مر یدوں کے بھی کئی قسم کے طبقے ہیں ایک تو طا عونی ہیں جوطاعون سے ڈر کر اس سے بچنے کی نیت سے اب آرہے ہیں ۱؎ دوسرے