اور جب رویت کے ذرہعی سے کچھ بتلا یا جاوے تواسے کشف کہتے ہیں اسی طرح مَیں نے دیکھا ہے کہ بعض وقت ایک ایسا امر ظا ہر ہو تا ہے کہ اس کا تعلق صرف قوت ِشا مہ سے ہو تا ہے مگر اس کا نام نہیں رکھ سکتے جیسے یوسفؑ کی نسبت حضرت یعقوبؑ کو خوشبو آئی تھی ۔
انی لا جد ریح یوسف لولا ان تفند ون(یوسف:۹۵)
اور کبھی ایک امر ایسا ہو تا ہے کہ جسم اسے محسوس کر تا ہے گو یا کہ حواس ِخمسہ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنی با تیں اظہار کرتا ہے ۱؎