متقی ہر وقت تیا ر رہتا ہے ہر رات حاملہ عورت کی طرح ہو تی ہے جیسے وہاں معلوم نہیں کہ کیا پیدا ہو نہیں معلوم صبح کو کیا نتیجہ پیدا ہو ۔اس لیے متقی اپنے اوقات کو ضائع نہیں کر تا بلکہ وہ ہر وقت ریار رہتا ہے یہ جان کر کہ معلوم نہیں کس وقت آواز پڑ جا وے ۔ نبوتِ مسیح موعود نبوت کا لفظ ہمارے الہا ما ت میں دوشرطیں رکھتا ہے اول یہ کہ اس کے ساتھ شریعت نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ ابو سطہ آنحضرتﷺ ۔ ملا ئکہ کا وجود جو لوگ ملا ئک سے انکا ر کر تے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں ان کو اتنا معلو م نہیں کہ دراصل جس قدر اشیا ء دنیا میں مو جو د ہیں ذرہ ذرہ پر ملا ئکہ کا اطلا ق ہو تا ہیے اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ بغیراس کے اذن کے کو ئی چیز اپنا اثر نہیں کر سکتی یہا نتک کہ پا نی کا ایک قطر ہ بھی اندر نہیں جا سکتا اور نہ وہ مو ثر ہو سکتا ہے وان من شیء الا یسبح بحمدہ (نبی اسرائیل:۴۵) کے یہی معنے ہیں اور رب کل شیئی خا دمک کے بھی یہی معنے ہیں یہی اسلام اور ایمان ہے اس کے سوا بد بودار چیز ہے ۔ موت موت کا مضمون بہت ہی مو ثر مضمون ہے اگر یہ انسان کے اندر چلا جا وے تو انسان بد یوں سے بچنے کی بہت کو شش کر ے ۔ابراہیم اَدہم اور شاہ شجاع جیسے بادشاہوں پر اسی مضمون نے اثر کیا تھا جو سلطنتیں چھوڑ کر فقیر ہو گئے ۔ خلق اور امر جو چیز غلل اور اسباب سے پیدا ہو تی ہے وہ خلق ہے اور جو محض کن سے ہو وہ امر ہے چنا نچہ فر ما یا انما امر ہ اذاراد شیئا ان یقول لہ کن فیلون(لیسؔ:۸۳) عالم ِ امر میں کبھی تو قف نہیں ہو تا خلق سلسلہ علل ومعلول کا محتاج ہے جیسے انسان کا بچہ پیدا ہو نے کے لیے نطفہ کا محتاج ہو پھر دوسرے مراتب اور طباتب کے قواعد کے نیچے ہو تا ہے مگر امر میں یہ نہیں ہو تا ہے ۔ (الحکم جلد ۷نمبر ۱۵ صفحہ ۱۲ مورخہ۷ ا؍اپریل ۱۹۰۳ئ؁) ۲۱؍اپریل ۱۹۰۳؁ء (بوقت ِسیرَ) وحی والہام کشف فر ما یا کہ :۔ جب سماع ۱؎ کے ذریعہ سے کو ئی خبر دی جا تی ہے تواس وحی کہتے ہیں