واہ کہ گر مردہ باز گر دیدے درمیاں قبلہ و پیوند
ردّ میراث سخت تر بُودے وارثا ںراز مرگ خویشادند
خدا تعالیٰ نے بھی فرمایا
فیمسک التی قضی علیھا الموت (الزم :۴۳)
حقیقتِ کشف
کشف کیا ہے اسی بیداری کے ساتھ کسی اور عالم کا تذاخل ہو جاتا ہے ۔اس میں حواس کے معطل ہو نے کی ضرورت نہیں ۔دُنیا کی بیداری بھی ہو تی ہے اورا یک عالمِ غیبو بیّت بھی ہو تا ہے یعنی حالت بیداری ہو تی ہے اور اسرارِ غیبی بھی نظر آتے ہیں ۔
قتلِ انبیاء
قتلِ انبیاء پر سوال ہونے پر فر مایا :۔
تورت میں لکھا ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جاوے گا ۔اس کا یہ فیصلہ یہ ہے اگر قرآن کی نصِ صریح سے پایا جاوے یا حدیث کے تواتر سے ثابت ہو کہ نبی قتل ہوتے رہے ہیں تو پھر ہم کو اس سے انکار نہیں کر نا پڑے گا ۔بہرل حال یہ کچھ ایسی بات نہیں کہ نبی کی شان میں خلل انداز ہو کیونکہ قتل بھی شہادت ہو تی ہے مگر ہاں ناکام قتل ہو جانا انبیاء کی علامات میں سے نہیں ۔
یہ مصالح پر موقوف ہے کہ ایک شخص کے قتل سے فتنہ بر پا ہو تا ہے تو مصلحتِ الہیٰ نہیں چاہتی کہ اس کو قتل کراکر فتنہ بر پا کیا جاوے ۔ جس کے قتل سے ایسا اندیشہ نہ ہو اس میں حرج نہیں
حد یث قر آن سے باہر نہیں
پھر فرمایا کہ:۔
جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے وہی کچھ حدیث میں ہے۔ہاں بعض ۱؎ باتوں کا استنباط ایسا اعلیٰ حدیثوں نے کیا ہے کہ دوسرے گو اس کو سمجھ نہیں سکتے ورنہ حدیث قرآن سے باہر نہیں۔
خدا تعالیٰ نے قرآن کانام رکھا ہے مُفَصَّلاً۔ اس پر ایمان ہونا چاہیئے بعض تفاسیر سوائے انبیاء کے اَور کی سمجھ میں نہیں آتیں ۔پھر اس طرح حدیث میں قرآن سے زائد کچھ نہیں۔
(الحکم جلد ۷نمبر ۱۵ صفحہ ۱۲ مورخہ ۲۴ اپریل ۱۹۰۷ئ)