اور شقی کا نام بھی ندارد ۔کاش کہ ابو جہل کبھی زندہ ہوکر آتا تو دیکھتا کہ جس کو وہ حقیر اور ذلیل خیال کرتا تھا خدا تعالیٰ نے اس کی کیا شان بنائی ہے ۔مشرق اور مغرب تک کہاں کہاں بلاد اسلامیہ پھیلے ۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں جو صحابہ ؓ فوت ہوئے انہوں نے تو وہ ترقیات نہ دیکھیں مگر جنہوں نے حضرت عمر ؓ کا زمانہ پایا انہوں نے دیکھ لیں ۔اگر ابوجہل وغیرہ کو معلوم ہوتا کہ عروج ہوگا تو مثل غلاموں کے آنحضرتﷺ کے ساتھ ہوجاتے ۔ (البدر جلد ۲ نمبر۱۵ صفحہ۱۱۴مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ئ؁) ۲۰ اپریل ۱۹۰۳ئ؁ (صبح کی سیر) حُبابِ ہستی فرمایا:۔ مجھے ہمیشہ تعجب آتا ہے کہ باوجود اس ودر بے بنیاد ہستی کے انسان دنیا میں بنیادیں قائم کرتا ہے صرف ایک دم کی آمدو شد ہے اَور کچھ بھی نہیں ۔پھر یہ سلسلہ خداتعالیٰ نے کیسا رکھا ہے کہ جو شخص یہاں سے رخصت ہوجاوے اس کو اجازت نہیں کہ واپس آکر وہاں کی خبر ہی بتلا جاوے ۔اس سے حکماء اور فلاسفر اور دانایانِ زمان سب عاجز ہیں ہاں اسی قدر پتہ ملتا ہے جو خدا کی کلام نے بتایاہے۔ آدمی جو مرتا ہے اکثر اپنے بڑے بڑے تعلقات اور عزیز اور پیارے رشتہ دار چھوڑ جاتا ہے مگر معاً انتقال کے بعد ان سے کچھ تعلق نہیں رہتا ۔آجکل یورپ کو ہر ایک بات کی تلاش ہے ۔چناچہ امریکہ میں ایک شخص سے معاہدہ ہوا (جو واجب القتل تھا)کہ جب اس کاسر کاٹا جاوے تواس کو بہت بلند آواز سے پکارا جاوے تو مَیں آنکھ سے اشارہ کریگا ۔چناچہ جب سر کاٹا گیا تو بڑے زور سے آوازیں دی گئیں مگر کچھ حرکت نہ ہوئی ۔سچ ہے آنرا کہ خبر شد خبرش باز نیامد جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہی سچ ہے ہاں موت اور نیند کو آپس میں مشابہت ہے ۔ احیا ء موتیٰ احیا موتیٰ کے بارے میں سوال ہونے پر فرمایا کہ :۔ اس میں ہمارا عقیدہ نہیں کہ اعجازی طور پر بھی احیاء موتیٰ نہیں ہوتا بلکہ یہ عقیدہ ہے کہ وہ شخص دوبارہ دنیا کی طرف رجوع نہیں کرتا ۔مبارک احمد کی حیات اعجازی ہے ۔اس میں کوئی بحث نہیں کہ جس شخص کی باقاعدہ طور پر فرشتہ جان قبض کر لے اور زمین میں بھی دفن کیا جاوے وہ پھر کبھی زندہ نہیں ہوتا ۔شیخ سعدی نے خوب کہا ہے ۔ ؎