پھر پوچھا کہ اس کے دلائل کیا ہیں ؟فرمایا :۔ اب وقت تھوڑا ہے ۔سوال تو انسان چند منٹوں میں کر لیتا ہے مگر بعض اوقات جواب کے لیے چند گھنٹے درکار ہوتے ہیں ۔جب تک ہر ایک پہلو سے نہ سمجھا جاوے تو بات سمجھ نہیں آیا کرتی اس لیے آپ کتابیں دیکھیں یا پھر کافی وقت ہوتو بیان کر دیئے جاویں گے۔ خاتم النبیین کی تشریح دوسرے صاحب نے سوال کیا کہ خاتم النبیین کی شرح کیا ہے ؟ اس کے جواب میں حضرت اقدس نے اپنا وہی مذہب بیان کیا جو ۱۵ اپریل کی ڈائری میں آچکا ہے ۔نیز فرمایا:۔ قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران:۳۲) جو جس سے پیار کرتا ہے تو اس سے کلام بغیر نہیں رہ سکتا ۔اسی طرح خدا تعالیٰ جس سے پیار کرتا ہے تو اس سے بلا مکالمہ نہیں رہتا ۔آنحضرت ﷺکی اتباع سے جب انسان کو خدا پیار کرنے لگتا ہے تو اس سے کلام بھی کرتا ہے ۔غیب کی خبریں اس پر ظاہر کرتا ہے ۔اسی کانام نبوت ہے۔ مجلس قبل از عشاء معرفت کی راہ فرمایا:۔ خدا تعالیٰ کی معرفت کی راہ بہت باریک اور تنگ ہے ۔اس لیے اس کا مشاہدہ انسان پر مشکل ہے ۔ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ اسباب کے ڈھیر کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔اور اسی لیے انسان اس پر مائل ہوجاتا ہے مگر تاہم ایک حصّہ امراض کا انسان کو ایسا لگا ہوا ہے کہ طبیب ہاتھ ملتے ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ پیش نہیں جاتی ۔ کیا دینداری اختیار کرنے سے مصیبت آتی ہَے ؟ بعض دنیا دار اعتراض کرتے ہیں کہ دینداری اختیار کی تو مصیبت آئی ۔مگر وہ بہت جھوٹے ہوتے ہیں ۔دیندارپر اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کے ثواب اور معرفت کا موجب ہوتی ہے اور دنیا دا رپر جو مصیبت آتی ہے وہ اس کی لعنت کا موجب بن جاتی ہے ۔آنحضرت ﷺ پر مصیبت پڑی مگر کیا ہی پیاری مصیبت تھی کہ جیسے جیسے وہ بڑھتی جاتی ویسے ہی زور سے قرآن نازل ہوتا جاتا ۔وہ دَور گو جلدی ختم ہوگیا یعنی صرف حضرت معاویہ تک ہی رہا ۔مگر نہ وہ رہے نہ یہ ۔ہاں سعید گروہ کے آثار قیامت تک رہے