ہو تا ہے کہ مسیح موعود ؑ جس کے وقت کے متعلق یہ پیشگوئی ہے اس کے دعاوی کا بہت بڑا انحصار اور دارومدار نشانات پر ہوگا اور خدا تعالیٰ نے اسے بھی بہت سے نشانات عطا فرمارکھے ہوں گے کیونکہ یہ جو فرمایا کہ ان الناس کانو با یتنا لا یوقنون یعنی اس عذاب کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے نشانات کچھ بھی پرواہ نہ کی اور ان کو نہ مانا اس واسطے ان کویہ سزا ملی۔ان نشانات سے مراد صرف مسیح موعود کے نشانات ہیں ورنہ یہ امر تو ٹھیک نہیں کہ گناہ تو زید کرے اور اس کی سزا عمرو کو ملے جو اس سے تیرہ سوسال بعد آیا ہے ۔آنحضرتﷺ کے زمانہ میں اگر لوگوں نے نشانات دیکھے اور ان سے انکار کیا تو اس انکار کی سزا تو ان کو اسی وقت مِل گئی اور وہ تباہ اور برباد ہوگئے اگر آیت سے وہی نشانات مراد ہیں جو آنحضرت ﷺ کے ہاتھ سے ظاہر ہوئے تھے تو کون کون سے نشانات ظاہر ہوئے تو ہزاروں میں سے شاید کوئی ہی ایسا نکلے جس کو اس طرح پر آپ کے نشانات کا علم ہو ورنہ عام طور سے اب مسلمانوں کو خبر تک بھی نہیں کہ نشانات کیا تھے اور کس طرح خدا تعالیٰ نے آپ کی تائید میں ان کو ظاہر فرمایا مگر کیا اس لاعلمی سے کوئی کہہ سکتا کہ وہ لوگ سارے کے سارے ان نشانات سے منکر ہیں ۔اور ان کو وہ نہیں مانتے ۔حالانکہ وہ مومن بھی ہیں ۔اگر ان کو علم ہو تو وہ مانے بیٹھے ہیں اُن کو کوئی انکار نہیں ۔ان لوگوں کے متعلق تو ہم آنحضرت ﷺ کو آپ کی نبوت کی تفاصیل سمیت مان لیا ہوا ہے وہ انکار کیسے کر سکتے ہیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پر وہ نشانات اب حجت نہیں کیونکہ انہوں نے وہ دیکھے ہی نہیں تو انکار کی وجہ سے ہلاک کیسے ہوسکتے ہیں ؟ پس معلوم ہوا کہ ان نشانات سے مراد مسیح موعودؑ ہی کے نشانات ہیں جن کا انکار کرنے کی وجہ سے عذاب کی تنبیہ ہے اور خدا تعالیٰ کا غضب ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے مسیح موعود کے نشانات سے انکار کیا ہے اور یہ خدا ئی فیصلہ ہے جس کو رد نہیں کیا جاسکتا یہ نصِّ صریح ہے اس بات پر کہ طاعون مسیح موعود ؑ کے انکار کی وجہ سے آئی ہے ۔ (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۵ صفحہ ۳مورخہ ۲۴ اپریل ۱۹۰۳ئ؁) ۱۸ اپریل ۱۹۰۳ئ؁ (بوقتِ سیر) حضور کا دعویٰ نووارد مہمانوں میں سے ایک نے سوال کیا کہ آپ کا دعویٰ کیا ہے؟ فرمایا:۔ ہمارا دعویٰ مسیح موعودؑ کا ہے جس کے کل عیسائی اور مسلمان منتظر ہیں اور وہ مَیں ہوں