ٹائپ کرنے والا ہے مگر قرآن شریف اس کے مقابلے میں کیا تعلیم دیتا ہے۔فرماتا ہے جزو سیئۃ سیئۃ مثلھا فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ (الشوریٰ :۴۱) یعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی معاف کردے اور اس عفو میں اصلاح مدِّ نظر ہو بگاڑ نہ ہو تو ایسے شخص کو اجر ملے گا ۔دیکھو قرآن شریف نے انجیل کی طرح ایک پہلو پر زور نہیں دیا بلکہ محل اور موقعہ کے موافق عفو یا سزا کی کاروائی کرنے کاحکم دیا ہے ۔ عفو غیر محل نہ ہو ۔ایسا عفو نہ ہوکہ اس کی وجہ سے کسی مجرم کو زیادہ جرأت ہو اور دلیری بڑھ جاوے اور وہ اَور بھی گناہ اور شرارت میں ترقی کرتے ۔غرض دونوں پہلوئوں کو مدِّ نظر رکھا ہے۔اگر عفو سے اس کی عادتِ بد جاتی رہے تو عفو کی تعلیم ہے اَور اگر اصلاح سزا میں ہوتو سزا ۱ ؎ دینی چاہیئے اَور پھر اگر قرآن شریف کی اور باقی تعلیموں کو بھی زمانہ کے ساتھ مطابق کرنا چاہیں تو اور کوئی تعلیم اس کا مقابلہ نہ کرسکے گی ۔ مسیح موعودؑ کے دعاوی کا انحصار نشانات پر ہوگا فرمایا:۔ قرآن شریف نے جو فرمایا اخرجنا لھم وابۃ من الارض تکلمھم ان الناس کانو با یا تنا لا یو قنون (النمل:۸۳) اس سے معلوم