مختلف قویٰ ۔انسان اس بات پر مجبور ہے کہ مختلف اوقات پر مختلف قویٰ سے کام لیوے کیونکہ اس کی فطرت میں اس کی پیدائش کے وقت سے ایسا ہی رکھا گیا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایک انسا ن کو ایک وقت ایک اور بر محل غضب ہوتو اس کی جگہ حلم کرکرے اور ہمیشہ ایک قوت سے کام لے دوسرے قویٰ کے ظہور کا موقعہ ہی نہ آوے ۔اگر ایسا ہی خداتعالیٰ نے کرنا تھا تو اتنے مختلف قویٰ کیوں انسان کو دیئے؟ صرف ایک عضو اور حلم ہی دیتا ۔باقی قویٰ سے جب کام لینا ہی گُناہ تھا تو وہ کیوں عطا کئے ؟نہیں ایسا نہیں۔بلکہ اسنان کی انسانیت اور اخلاق فاضلہ ہی اسی میں ہیں کہ محل اور موقعہ کے مطابق اپنے قویٰ کا اظہا ر کرے ۔ورنہ اس میں اور حیوانوں میں مابہ الامتیاز کیا ہوا؟ ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اگر اُن سے ایک دو مرتبہ عفو اور در گذر کیا جاوے اور نیک سلوک کیا جاوے تو اطاعت میں ترقی کرتے اور اپنے فرائض کو پوری طرح سے ادا کرنے لگ جاتے ہیں اور بعض شرارت میں اَور بھی زیادہ ترقی کرتے اور احکام کی پرواہ نہ کرکے ان کو توڑدینے کی طرف دوڑتے ہیں ۔اب اگر ایک خدمت گار کو جو نہایت شریف الطبع آدمی ہے اور اتفاقاً اس سے ایک غلطی ہوگئی ہے اُسے اُٹھ کر مارنے اور پیٹنے لگ جائیں توکیا وہ کام دے سکے گا ؟نہیںبلکہ اس سے تو عفو اور درگذر کرنا ہی اس کے واسطے مفید اور اس کی اصلاح کا موجب ہے مگر ایک شریر کو جس کا بارہا تجربہ ہوگیا ہے کہ وہ عفو سے نہیں سمجھتا بلکہ اَور بھی شرارت میں قدم آگے رکھتا ہے تو اس کو ضرور سزا دینی پڑے گی اور اسکے واسطے مناسب یہی ہے کہ اُسے سزا دی جاوے ۔ ٹائپ کرنے والا ہے