۱۶ اپریل ۱۹۰۳ئ؁ ایک نیا نکتہ بعد نماز مغرب حضرت اقدس ؑ نے اس تقریر کا اعادہ فرمایا جو کہ مورخہ ۱۵ اپریل کی سَیر میں درج ہوچکی ہے اسکی تکمیل میں ایک نئی بات یہ فرمائی کہ:۔ اس وقت میں اُمّتِ موسوی کی طرح جو ماامور اور مجدد ین آئے ان کا نام نبی نہ رکھا گیا تو اس میں یہ حکمت تھی کہ آنحضرت ﷺ کی شان ختمِ نبوت میں فرق نہ آوے (جس کا مفصل ذکر قبل ازیں گذر چکا ہے)اور اگر کوئی نبی آتا تو پھر مماثلت میں فرق آتا ۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدم ،ابراہیم ،نوح اور موسیٰ وغیرہ میرے نام رکھے حتیٰ کی آخر کار جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء کہا ۔گویا اس سے سب اعتراض رفع ہوگئے اورآپ کی اُمّت میںایک آخری خلیفہ ایسا آیا جو موسیٰ کے تمام خلفاء کا جامع تھا ۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ صفحہ ۹۹ مورخہ ۱۷ اپریل ۱۹۰۳ئ؁) ۱۷ اپریل ۱۹۰۳ئ؁ (دربارِ شام) انجیل کی تعلیم ناقابلِ عمل ہیَ کالجوں اور مدرسوں ۱ ؎ میں انجیل پڑھانے کے متعلق ذکر کرتے ہوئے فرمایاکہ:۔ ہمیں تو تعجب آتا ہے کہ یہ لوگ انجیل کو پیش کس خیال سے کرتے ہیں۔اس کی تعلیم تو انسانی فطرت کے ہی خلاف پڑی ہوئی ہے۔اور تَو اور ایک درخت ۲ ؎ کی طرح مثال خیال کرو اور اس کی مختلف شاخوں کو انسان کے