شرک اور بدعت کو ان کے ایمان میں راہ نہیں تو اجازت دیدی۔ بالکل اسی طرح یہ امر ہے ۔پہلے تیرہ سو برس اس عظمت کے واسطے نبوت کا لفظ نہ بولااگر چہ صفتی رنگ میں صفتِ نبوت اور انوارِ نبوت موجود تھے اور حق تھا کہ اُن لوگوں کو نبی کہا جاوے مگر خاتم الانبیا ء کی نبوت کی عظمت کے پاس کی وجہ سے وہ نام نہ دیا گیا ۔مگر اب وہ خوف نہ رہا تو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے واسطے نبی اللہ کا لفظ فرمایا۔ آپ کے جانشینوں اور آپ کی اُمّت کے خادموں پر صاف صاف نبی اللہ بولنے کے واسطے دو اُمور مدِّ نظر رکھنے ضروری تھے ۔اوّل عظمت آنحضرت ﷺ اور دوم عظمتِ اسلام ۔سو آنحضرت ﷺ کی عظمت کے پاس کی وجہ سے ان لوگوں پر ۱۳۰۰ برس تک نبی کا لفظ نہ بولا گیا تاکہ آپ کی نبوت کا حق ادا ہو جاوے اور پھر چونکہ اسلام کی عظمت چاہتی تھی کہ اس میں بھی بعض ایسے افراد ہوں جن پر آنحضرت ﷺ کے بعد لفظ نبی اللہ بولا جاوے اور تا پہلے سلسلہ سے اس کی مماثلت پوری ہو ۔آخری زمانہ میں مسیح موعود کے واسطے آپ کی زبان سے نبی اللہ کا لفظ نکلوادیا ۔اور اس طرح پر نہایت حکمت اور بلاغت سے دو متضاد باتوں کو پورا کیا اور موسوی سلسلہ کی مماثلت بھی قائم رکھی اور عظمت اور نبوت آنحضرتﷺ بھی قا ئم رکھی ۱ ؎ عو رت نبیّہ نہیں ہوسکتی سوال:۔ کیا کوئی عورت نبیّہ ہوسکتی ہے ؟فرمایا:۔ نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الرجال قوا مون علی النساء (النساء :۳۵) اور و للرجال علیھن درجۃ (البقرہ ۲۲۹) عورتیں اصل میں مردوں کی ہی ذیل ہوا کرتی ہیں ۔جب صاحبِ درجہ اور صاحبِ مرتبہ کے واسطے ایک دروازہ بند کردیا گیا تو یہ بیچاری ناقصات العقل کس حساب میں ہیں ؟ (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۴ صفحہ ۹۔۱۰ مورخہ ۱۷ـ اپریل ۱۹۰۳ئ؁)