دروازہ بند بھی نہ کیا گیا تھا اور نبوت کے انوار جا ری بھی تھے جیسا کہ ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین سے نکلتا ہے کہ آنحضرت ﷺکی مُہر اور اذن سے اور آپ کے نُور سے نُورِنبوت جاری بھی ہے اور یہ سلسلہ بند بھی نہیں ہوا ۱ ؎ یہ بھی ضروری تھا کہ اسے ظاہراً بھی شائع کیا جاوے تاکیہ موسوی سلسلہ کے نبیوں کے ساتھ آپ کی اُمّت کے لوگ بھی مماثلت کے پورا کرنے میں صاف طور سے نبی اللہ کالفظ فرمادیا اور اس طرح سے دونوں امور کا لحاظ نہایت حکمت اور کمال لطافت سے رکھ لیا گیا۔ادھر یہ کہ آنحضرت ﷺ کی کسرِ شان بھی نہ ہو اور اُدھر موسوی سلسلہ سے مماثلت بھی پوری ہوجاوے۔تیرہ سو برس تک نبوت کے لفظ کا اطلاق تو آپ کی نبوت کی عظمت کے پاس سے نہ کیا اور اس کے بعد اب مدت دراز کے گذرنے سے لوگوں کے چونکہ اعتقاد اس امرپرپختہ ہوگئے تھے کہ آنحضرت ﷺ ہی خاتم الانبیا ء ہیں اور اب اگر کسی دوسرے کا نام نبی رکھا جاوے تو اس سے آنحضرت ﷺ کی شان میں کوئی فرق بھی نہیں آتا اس واسطے اب نبوت کا لفظ مسیح کے لیے ظاہراً بھی بول دیا ۔یہ ٹھیک اسی طرح سے ہے جیسے آپ نے پہلے فرمایا تھا کہ قبروں کی زیارت نہ کیا کرو اور پھر فرمایا کہ اچھا اب کر لیا کرو ۔پہلے منع کرنا بھی حکمت رکھتا تھا کہ لوگوں کے خیالات ابھی تازہ بتازہ بت پرستی سے ہٹے تھے تا وہ پھر اسی عادت کی طرف عود نہ کریں ۔پھر جب دیکھا کہ اب اُن کے ایمانِ کمال کو پہنچ گئے ہیں اور کسی قسم کے