ا گر غور سے دیکھا جاوے تو ہمارے نبی کریم ﷺ کو آپ کے بعد کسی دوسرے کے نبی نہ کہلانے سے شوکت ہے اور حضرت موسیٰ ؑ کے بعد اور لوگوں کے بھی نبی کہلانے سے اُن کی کسرِ شان ۔کیونکہ حضرت موسیٰ ؑ بھی ایک نبی تھے اور ان کے بعد ہزاروں اور بھی نبی آئے تو اُن کی نبوت کی خصوصیت اور عظمت کوئی نہیںثابت ہوتی ۔برعکس اس کے آنحضرتﷺ کی ایک عظمت اور آپ کی نبوت کے لفظ کا پاس اور ادب کیا گیا ہے ۔کہ آپ کے بعد کسی دوسرے کو اس نام سے کسی طرح بھی شریک نہ کیا گیا ۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ کی اُمّت میں بھی ہزاروں بزرگ نبوت کے نور سے منور تھے اورہزاروںکو نبوت کا حصّہ عطا ہوتا رہا ہے اب بھی ہوتا مگر چونکہ آنحضرتﷺ کا نام خاتم الانبیاء رکھا گیا تھا ۔اس لیے خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ دوسرے کو بھی یہ نام دے کر آپ کی کسرِ شان کی جاوے ۔آنحضرت ﷺ کی اُمت میں سے ہزار ہا انسانوں کو نبوت کا درجہ ملا اور نبوت کے اثار اور برکات ان کے اندر موجزن تھے مگر نبی کا نام ۔صرف شانِ نبوت آنحضرت ﷺ اور سدِبابِ نبوت کی خاطر اُن کو اس نام سے ظاہر اً ملقب نہ کیا گیا ۔ ۱ ؎ مگر دوسری طرف چونکہ آنحضرت ﷺ کے فیوض اور رُحانی برکات کا