توفیق رکھتا ہو۔پس لازمی ہے کہ اس سے دعا کرتے رہو اور اسی کے آستانہ پر گرے رہو ساری توفیقیں اسی کے ہاتھ میں ہیں ۔ (البدر جلد ۷نمبر۱۴ صفحہ ۷ تا ۹ مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ئ)
۱۵ اپریل ۱۹۰۳ئ
(صبح کی سیر )
محمدؐ ی سلسلہ میں موسوی سلسلہ کی طرح نبی کیوں نہیں آئے؟
فرمایا:۔
رات کے سوال کا یہ حصّہ کہ جب مماثلت ہے موسوی اورمحمدی سلسلوں میں ۔تو محمدی سلسلے میں موسوی سلسلے کی طرح نبی کیوں نہیں آئے؟ یہ حصّہ ایسا ہے جس سے ایک انسان کو دھوکا لگ سکتا ہے ۔لہذا ہم اس کے متعلق زیادہ تشریح کر دیتے ہیں ۔اوّل تو وہی بات کہ مماثلت کے لیے ضروری نہیں کہ دوسرے کا وہ عین ہو ۔مشُبّہ و مُشَبّہ بِہٖ میں ضرور فرق ہوتا ہے ۔ایک خوبصورت انسان کو چاند سے مشابہت دے دیتے ہیں ۔مگر چاہیئے کہ ایسے انسان کا ناک نہ ہو ۔کان نہ ہوں ۔صرف ایک گول سفید چمکیلا سا ٹکڑا ہو۔اصل بات یہ ہے کہ مشابہت کے واسطے بعض حصّہ میں مشابہت ضرور ہوتی ہے۔ ۱ ؎
دیکھیئے حضرت موسیٰ سے آنحضرت ﷺ کو مشابہت ہے اور اس میں صرف اعلیٰ جزو یہی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے ایک قوم کو جو فرعون کے ماتحت غلامی میں مبتلا تھی اور اُن کے حالات گندے ہوگئے تھے وہ خدا کو بھول گئے تھے اور ان کے خیالات اور ہمتیں پست ہوگئی تھیں ۔موسیٰ ؑنے اس قوم کو فرعون سے نجات دلائی اور ان کو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے قابل بنادیا ۔اسی طرح آنحضرتﷺ نے بھی ایک قوم کو بتوں کی غلامی اور راہ ورسم کی قید سے نجات دلائی اور اپنے دشمن کو فرعون کی طرح ہلاک و برباد کیا۔ یہ مشابہت تھی ۲ ؎