قوم کی بھی ناک کٹی ہوئی ہے کہ اس میں گویا کوئی بھی اس قابل نہیں کہ اصلاح کرنے کے قابل ہوسکے اور کسی کو یہ شرف مکالمہ عطا نہیں کیا جاسکتا اور اسی پر بس نہیں بلکہ آنحضرتﷺ پر اعتراض آتا ہے کہ ایسے بڑے نبی ہو کر ان کی اُمّت ایسی کمزور اور گئی گذری ہے ۔ایسا نہیں ۔بلکہ بات یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی اُمّت میں نبوت ہے اور نبی ہیں مگر لفظ نبی کا بوجہ عظمت نبوت استعمال نہیں کیا جاتا لیکن برکات اور فیوض موجود ہیں۔ خدا کو پانے کی راہ ایک شخص نے سوال کیا کہ وہ کیا راہ ہے جس سے انسا ن خدا کو پاسکے ؟ فرمایا:۔ جو لوگ برکت پاتے ہیں ان کی زبان بند اور عمل ان کے وسیع اور صالح ہوتے ہیں ۔پنجابی میں کہاوت ہے کہ کہنا ایک جانور ہوتا ہے اس کی بدبُو سخت ہوتی ہے اور کرنا خوشبو دار درخت ہوتا ہے ۔سو ایسا ہی چاہیئے کہ انسان کہنے کی نسبت کرکے بہت کچھ دکھائے ۔صرف زبان کام نہیں آتی ۔بہت سے ہوتے ہیں جو باتیں بہت بناتے ہیں اور کرنے میں بہت سست اور کمزور ہوتے ہیں۔صرف باتیں جن کے ساتھ روح نہ ہو وہ نجاست ہوتی ہیں ۔بات وہی برکت والی ہوتی ہے جس کے ساتھ آسمانی نور ہو اورعمل کے پانی سے سرسبز کی گئی ہو ۔اس کے واسطے انسان خود بخود ہی نہیں کر سکتا ۔چاہیئے کہ ہر وقت دُعا سے کام کرتا رہے اور در گذر سے اور سوز سے اس کے آستانہ پر گرا رہے اور اس سے توفیق مانگے ورنہ یاد رکھے کہ اندھا مریگا۔ دیکھو جب ایک شحص کو کوڑھ کا ایک داغ پیدا ہوجاوے تو اس کے واسطے فکر مند ہو تا ہے اور دوسری باتیں اُسے بھول جاتی ہیں ۔اسی طرح جس کو رُحانی کو ڑھ کا پتہ لگ جاوے ۔اُسے بھی ساری باتیں بھو ل جاتی ہیں اور وہ سچے علاج کی طرف دوڑتا ہے مگر افسو کہ اس سے آگاہ بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ انسان کے واسطے یہ مشکل ہے کہ وہ سچی توبہ کرے ایک طرف سے توڑ کر دوسری طرف جوڑنا نہایت مشکل ہوتا ہے ۔ہاں مگر جسے خدا تعالیٰ توفیق دے ۔ہاں ادب سے حیا سے ،شرم سے اُس سے دُعا اور التجا کرنی چاہیئے کہ وہ توفیق عطا کرے اور جو ایسا کرتے ہیں وہ پابھی لیتے ہیں اور اُن کی سُنی بھی جاتی ہے صرف باتونی آدمی مفید نہیں ہوتا ۔کپڑا جتنا سفید ہوتا ہے اور پہلے سے اس پر کوئی رنگ نہیں دیا جاتا اتنا ہی عمدہ رنگ اس پر آتا ہے ۔پس تم اس طرح اپنے آپ کو پاک کر و تاتم پر خدائی رنگ عمدہ چڑھے ۔اہلِ بیت جو ایک پاک گروہ اور بڑا عظیم الشان گھرانا تھا ۔اس کے پاک کرنے کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ نے خود یہ فرمایا ۔ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرحس اھل البیت و یطھیرا (الاحزاب :۳۴) یعنی مَیں ہی ناپاکی اور نجاست کو دُور کروں گا اور خود ہی ان کو پاک کیا تو بھلا اور کون ہے جو خود بخود پاک صاف ہونے کی