سکے گی جس پر آپ کی مُہر ہوگی۔ورنہ اگر نبوت کادروازہ بالکل بند سمجھا جاوے تو نعوذ باللہ اس سے انقطاعِ فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نجوست ہے اور نبی کی ہتک شان ہوتی ہے ۔گویا اللہ تعالیٰ نے اس اُمّت کو جو کہا کہ کنتم خیر ا متہ یہ چھوٹ تھا نعوذ باللہ ۔اگر یہ معنے کیے جاویں کہ آئندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہر طرح سے بند ہے تو پھر خیرالامتہ کی بجائے شرالامم ہویء یہ اُمّت ۔جب اس کو اللہ تعالیٰ سے مکالمات اورمخاطبات کا شرف بھی نصیب نہ ہوا ۔تو یہ تو کا لانعام بل ھم اضل ہوئی اور بہائم سیرت اسے کہنا چاہیئے نہ کہ یہ خیر الامم ۔اور پھر سورۃ فاتحہ کی دُعا بھی لغو ہوجاتی ہے ۔اس میں جو لکھا ہے کہ اھدنا الصراط مستقیم صراط الذین انعمت علیھم تو سمجھنا چاہیئے کہ ان پہلوں کے پلائو زردے مانگنے کی دُعا سکھائی ہے اور انکی جسمانی لذّات اور انعامات کے وارث ہونے کی خواہش کی گئی ہے؟ ہر گز نہیں ۔اور اگر یہی معنے ہیں تو باقی رہ بھی کیا گیا ہے ۔جس سے اسلا م کا علو ثابت ہو وے ۔اس طرح تو ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ آنحضرتﷺ کی قوتِ قدسی کچھ بھی نہ تھی اور آپ حضرت موسیٰ ؑ سے مرتبے میں گِرے ہوئے تھے کہ ان کے بعد تو ان کی اُمّت میںسے سینکڑوں بنی آئے مگر آپ کی اُمّت سے خدا تعالیٰ کو نفرت ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ مکالمہ بھی نہ کیا کیونکہ جس کے ساتھ محبت ہوتی ہے آخر اس سے کلام تو کیاہی جاتا ہے۔ نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا سلسلہ جاری ہے مگر آپ میں سے ہوکر اور آپ کی مہر سے اور فیضان کا سلسلہ جاری ہے ۔ہزاروں اس اُمّت میں سے مکالمات اور مخاطبات کے شرف سے مشرف ہوئے اور انبیاء کے خصائص اُن میں موجود ہوتے رہے ہیں ۔سینکڑوں بڑے بڑے بزرگ گذرے ہیں جنہوں نے ایسے دعوے کئے ۔چناچہ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ ہی کی ایک کتاب فتوح الغیب کو ہی دیکھ لو ۔ورنہ اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ من کان فی ھذہ اعمی فھوفی الاخرۃ اعمی (بنی اسرائیل :۷۳) اگر خدا تعالیٰ نے خود ہی اس اُمّت کو اعمٰی بنایا تھا تو عجب ہے خود ہی اعمٰی کے واسطے زجر اور توبیخ ہے کہ آخر ت میں بھی اعمٰی ہوگی ۔اس اُمّت بیچاری کے کیا اختیار ۔اس کی مثال تو ایسے ہے کہ ایک شخص کسی کو کہے کہ اگر تو اس مکان سے گر جاوے گا تو تجھے قید کر دیا جاوے گا مگر پھر خود ہی دھکا دیدے۔ گویا نبوت کا سلسلہ بند کر کے فرمایا کہ تجھے مکالمات اورمخاطبات سے بے بہرہ کیا گیا اور تو بہائم کی طرح زندگی بسر کرنے کے واسطے بنائی گئی اور دوسری طرف کہتا ہے کہ من کان فی ھذہ اعمی فھوفی الاخرۃ اعمی (بنی اسرائیل :۷۳) اب بتائو کہ اس تناقض کا کیا جواب ہے ؟ ایک طرف تو کہا خیراُمّت اور دوسری جگہ کہہ دیا کہ تو اعمٰی ہے آخرت میں بھی اعمٰی ہوگی ۔نعوذ باللہ ۔کیسے غلط عقیدے بنائے گئے ہیں۔ اور اگر کوئی باہر سے اس کی اصلاح کے واسطے آگیاتو بھی مشکل۔اس اُمّت کے نبی کی ہتک شان اور