بے ایمانی کیسے پیدا ہوتی ہَے ایک اَور سوال کیا کہ بے ایمانی کس طرح پیدا ہوتی ہے؟ فرمایا کہ:۔ بی ایمانی خدا کی معرفت نہ ہونے اور ایمان کے کامل درجہ تک نہ پہنچنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ادھورا ایمان اس کی وجہ ہوتی ہے۔ ختمِ نبوت سے مُراد اویک اَور صاحب نے سوال کیا کہ حضور جب سلسلہ موسوی اور سلسلہ محمدؐی میں مماثلت ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس سلسلہ کے خادم تو نبی کہلائے مگر ادھر اس طرح کوئی بھی نبی نہ کہلایا؟فرمایا کہ:۔ مشاہبت میں ضروری نہیں کہ مشبّہ اور مشبَّہ بہٖ بالکل آپس میں ایک دوسرے کے عین ہوں اور ان کا ذراہ بھی آپس میں خلاف نہ ہو۔اب ہم جو کہتے ہیں کہ فلاں شخص تو شیر ہے۔تو اب اس میں کیا بھلا ضروری ہے کہ اس شخص کے جسم پر لمبے لمبے بال بھی ہوں۔چار پائوں بھی ہوں اور وہ جنگلوں میں شکار بھی کرتا پھرے ؟بلکہ جس طرح من وجہ تشابہ ہوتا ہے ویسا ہی من وجہ مخالف بھی ہونا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے کنتم خیر امۃ تو ہمیں ہی فرمایا ہے۔جو اعلیٰ درجہ کے خیر اور برکات تھے وہ اسی امت میں جمع ہوئے ہیں آنحضرتﷺ کا زمانہ ایسے وقت تک پہنچ گیا ہوا تھا کہ دماغی اور عقلی قوے پہلے کی نسبت بہت کچھ ترقی کر گئے تھے۔اس زمانہ میں تو ایک گونہ جہالت تھی۔اب کوئی کہے کہ اس طرح بھی تشابہ نہ ہوا تو یہ اس کا کہنا درست نہ ہوگا۔نبوت جو اللہ تعالیٰ نے اب قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے بعد حرام کی ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اب اس امت کو کوئی خیر و برکت ملے گی ہی نہیں اور نہ اس کو شرفِ مکالمات اور مخاطبات ہوگا۔بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی مُہر کے سوائے اب کوئی نبوت نہیں چل سکے گی۔اس امت کے لوگوں پر جو نبی کا لفظ نہیں بولا گیا۔اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ حضرت موسیٰؑ کے بعد تو نبوت ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی آنحضرت ﷺ جیسے عالی جناب،اولوالعزم صاحب شریعت کامل آنے والے تھے۔اسی وجہ سے ان کے واسطے یہ لفظ جاری رکھاگیا۔مگر آنحضرتﷺ کے بعد چونکہ ہر ایک قسم کی نبوت بجز آنحضرت ﷺ کی اجازت کے بند ہوچکی تھی اس واسطے ضروری تھا کہ اس کی عظمت کی وجہ سے وہ لفظ نہ بولا جاتا۔ ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبین (الاحزاب:۴۱) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جسمانی طور سے آپکی اولاد کی نفی بھی کی ہے اور ساتھ ہی روحانی طور سے آپ باپ بھی ہیں اور رُوحانی نبوت اور فیض کا سلسلہ آپ کے بعد جاری رہے گا اور وہ آپ میں سے ہو کر جاری ہوگا۔نہ الگ طور سے۔وہ نبوت چل