سے ایسی چیز کو اختیار کرے جو کفار سے تشبیہ نہ رکھتی ہو اور اسلامی لباس سے نزدیک تر ہو۔۱؎جب ایک شخص اقرار کرتا ہے کہ مَیں ایمان لایا تو پھر اس کے بعد وہ ڈرتا کس چیز سے اور وہ کون سی چیز ہے جس کی خواہش اب اس کے دل میں باقی رہ گئی ہے کیا کفار کی رسوم اور عادات کی؟اب اُسے ڈر چاہئیے تو خدا کا۔اتباع چاہئیے تو محمد رسول اللہ ﷺ کی۔کسی ادنیٰ سے گناہ کو خفیف نہ جاننا چائیے بلکہ صغیرہ ہی سے کبیرہ بن جاتے ہیں۔اور صغیرہ ہی کا اصرار کبیرہ ہے۔۲؎
ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے ایسی فطرت ہی نہیں دی کہ ان کے لباس یا پوشش سے فائدہ اُٹھائیں۔سیالکوٹ سے ایک دوبا رانگریزی جوتا آیا۔ہمیں اس کا پہننا ہی مشکل تھا کبھی ادھر کا ادھر اور کبھی بائیں کا دائیں۔آخر تنگ آکر سیاہی کا نشان لگایا گیا کہ شناخت رہے مگر اس طرح بھی کام نہ چلا۔آخر مَیں نے کہا کہ یہ میری فطرت ہی کے خلاف ہے کہ ایسا جوتا پہنوں۔
دوراستوں میں سے کس کو اختیار کرے
اسی صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص جاتا ہو اور ایک جگہ پر دوراہ جمع ہو جائیں۔ایک دائیں اور دوسرا بائیں کو۔تو کس راہ کی طرف جاوے؟فرمایا کہ:۔
اس سے اگر تمہاری مراد بھی جسمانی راہ ہے تو پھر اس راہ جاوے جس میں اس کی صحت نیت اور کوئی فساد نہیں اور اگر جانتا ہے کہ ادھر بدبو اور عفو نت ہے یا کنجروں اور فاسقوں۔خدا اور رسول کے دشمنوںکے گھرہیں تو اس راہ کو چھوڑ دے۔غرض صحتِ نیت کا خیال کرلے اور فساد کی راہ سے کلی پرہیز کرے۔۳؎