خالی ہیں اس واسطے کسی کو کشش نہیں ۔ ۱؎ آنحضرت ﷺ کے زما نہ بعثت میں ہزاروں ہزار لوگ اپنے کاروبا ر چھوڑ کر بھی آپ کی مخالفت کے لیے کمر بستہ ہو ئے اپنے مالوں کا جا نوں کا نقصان منظورکیا اور آنحضرت ﷺ کی مخالفت کے لیے دن رات تد بیر وں منصوبوں میں کوشا ں ہو ئے مگر دوسری طرف مسیلمہ تھا ادھر کسی کو تو جہ نہ تھی اس کی مخالفت کے واسطے کسی کے کان بھی کھڑے نہ ہو ئے۔ آنحضرتﷺکے واسطے جس طرح گھر گھر میں پُھوٹ اور جدائی ہوتی تھی مسیلمہ کے واسطے ہر گز نہ ہوئی۔غرض صادق کے واسطے ہی ایک کشش ہوتی ہے جو دلوں کے ولولو ں کو اُبھارتی اور جوش میں لاتی ہے سعیدوں کے ولولے سعادت اور اشقیاء کے شقاوت کے رنگ میں پھل لاتے ہیں۔شقی چونکہ اسی فطرت کے ہوتے ہیں۔اس واسطے ان کے واسطے کشش بھی اُلٹے رنگ میں ثمرات لاتی ہے۔ (دربارِ شام ) تشبّہ بالکفار ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہندوئوں والی دھوتی باندھنی جائز ہے یا نہیں؟اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔ تشبیہ بالکفار تو کسی رنگ میں بھی جائز نہیں۔اب ہندو ماتھے پر ایک ٹیکہ سا لگاتے ہیں کوئی وہ بھی لگالے۔یا سر پر بال تو ہر ایک کے ہوتے ہیں مگر چند بال بودی کی شکل میں ہندو رکھتے ہیں اگر کوئی ویسے ہی رکھ لیوے تو یہ ہرگز جائز نہیں ۱؎ مسلمانوں کو اپنی ہر ایک چال میں وضع قطع میں غیرت مندانہ چال رکھنی چاہئیے ہمارے آنحضرت ﷺ تہ بند بھی باندھا کرتے تھے اور سرا ویل بھی خرید ناآپ کا ثابت ہے جسے ہم پاجامہ یا تنبی کہتے ہیں ان میں سے جو چاہیے پہنے۔علاوہ ازیں ٹوپی۔کُرتہ۔چادر اور پگڑی بھی آپ کی عادت مبارک تھی۔جو چاہیے پہنے کوئی حرج نہیں۔ہاں البتہ اگر کسی کو کوئی نئی ضرورت در پیش آئے تو اسے چاہئیے کہ ان میں