ضرر اور نقصان اٹھا تا ہے اس کی طرف بھا گنے کا حریص ہو تا ہے ہو شیا ر نہیں ہو تا اور نہ ہی اس نا فر ما نی کو ترک کر تا ہے بلکہ جذبا ت نفس کا میطع ہو کر پھر اسی کام کو کر نے لگتا ہے جس سے ایکبار ٹھو کر کھا چکا ہو ۔ ۱۴؍ اپریل ۱۹۰۳؁ء (صبح کی سیر) صادق کیسا تھ ایک کشش نازل ہو تی ہیَ فر ما یا :۔ صادق کی لبعثت کیسا تھ ہی آسمان سے اس واسطے ایک کشش نازل ہوا کر تی ہے جو دلوں کو ان کی استعدادوں کے مطا بق کشش کر تی اور ایک قوم بنا دیتی ہے اس سے تمام سیعد روحیں صادق کی طرف کھنچی چلی آتی ہیں دیکھو ایک شخص کو دوست بنا کر اس کو اپنے منشا ء کے موافق بنا نا ہزار مشکل رکھتا ہے اور اگر ہزاروں روپے خرچ کر کے بھی کسی کوصادق وفادار دوست بنا نے کی کوشش کی جاوے تو بھی معرض خطر میں ہی پڑتا ہے اور پھر آخر کار اس خیال کے بر عکس نتیجہ نکلتا ہے مگر ادھر ان لا کھوں ہیں کہ غلا موں کی طرح سچے فر ما نبردار ۔صدق ووفا کے پتلے خود بخود کھنچے چلے آتے ہیں ۱؎ اور پھر عجب بات یہ ہے کہ اس امر کی اطلا ع آج سے با ئیس برس پیشتر جب اس کی ایک بھی مثال قائم نہ ہو ئی تھی دی گئی چنا نچہ الہام ہے کہ والقیت علیک محبۃ منی آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ تمام دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کشش کا نزول ہے سعید تو دوستی کے رنگ میں چلے آتے ہیں مگر شقی بھی اس حصہ سے محروم نہیں ان میں مخالفت کا جوش شعلے مار رہا ہے جب کہیں ہمارا نام بھی ان کے سامنے آجا تا ہے تو سانپ کی طرح بل ہیچ کھا تے اور بیخود ہو کر مجنونوں کی طرح گا ل گلوچ تک آجا تے ہیں ور نہ بھلا دنیا میںہزاروں فقیر ۔لنگوٹی پوش ۔بھنگی ۔چرسی۔کنجر ۔بد معاش ۔بدعتی وغیرہ پھر تے ہیں مگر ان کے لیے کسی کو جوش نہیں آتا اور کسی کے کان پر جوں نہیں چلتی وہ چا ہے بد مذھبیاں اور بے دینیاں کر یں پھر بھی ان سے مست ہی رو رہے ہیں اس کی وجہ بھی صرف یہی ہے کہ و چو نکہ روحانیت