ہو تی ۔ ۱۳؍اپریل ۱۹۰۳؁ء (دربارِشام ) ایک رؤیا حضرت اقدس نے مند رجہ ذیل خواب سنا یا کو گذشتہ شب کو آیا تھا فر ما یا کہ مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا بحر ذخار کی طرح ایک دریا ہے جو سانپ کی طرح بل پیچ کھا تا تو مغرب سے مشرق کو جا رہا ہے اور پھر دیکھتے دیکھتے سمت بد ل کر مشرق سے مغرب کو الٹا بہنے لگا ۔ فر ما یا کہ :۔ طا عون کا روز اب تو وہ زما نہ طاعون نے دکھا نا شروع کر دیا ہے جس طرح مد نیہ منورہ میں یہودی قتل ہو ئے تھے تو ایک بڑا شخص زند ہ رکھا گیا تھا اس بے پو چھا فلاں شخص کا کیا حال ہوا فلاں کا کیا حال ہوا غرض جس کے متعلق اس نے ردیافت کیا اسی کے متعلق جواب ملا کہ وہ سب قتل کئے گئے تو پھر اس نے کہا کہ لوگوں کے مارے جانے کے بعد مَیں نے زندہ رہ کیا بنا نا ہے مجھے بھی زند گی کی ضرورت نہیں سوآج کل طا عون وہ حال دکھارہی ہے ۔ اکثر دیکھاجا تا ہے کہ انسان لمبی عمر کی بھی خواہشمند ہو تے ہیں مگر جب دوست اور تعلق دار ہی نہ رہے تواس عمر کا ہو نا بھی ایک وبا ل ہو جا تا ہے ایسی حالت دیکھ کر انسان ایسی لمبی عمر کی بھی آرزو نہیں کر سکتا ۔ کیو نکہ انسان دوستوں اور رشتہ داروں کے بغیر رہ سکتا ہی نہیں ۔ انسان اور پر ندہ ایک جا نور آج کل کے مو سم میں شام کے بعد مسجد مبا رک کے نشہ نشین احباب پر حملہ کیا کرتا ہے اس کے متعلق فر ما یا کہ :۔ کو ئی ایسی تد بیر کی جا وے کہ ایک دفعہ اس جگہ پکڑا جا وے پھر ہم اسے چھوڑہی دینگے مگر ایک دفعہ پکڑا جا نے سے اتنا تو ضرور ہو گا کہ پھر وہ کبھی آئندہ اس جگہ اس طرح حملہ کر نے کا ارادہ نہ کر یگا ۔ ہر جا نور کا یہ قاعدہ ہے کہ اس کے اندر ایک خاصیت ہے کہ جس جگہ سے اسے ایک دفعہ ٹھو کر لگتی ہے اور مصیبت میں مبتلا ہو تا ہے اس جگہ کا پھر وہ کبھی قصد نہیں کرتا مگر صرف انسان ہی ایک ہے جو با وجود اشرف المخلوقات ہو نے کے ان پر ندوں وغیرہ سے بھی گرا ہوا ہے کہ جہاں سے اسے مصائب پہنچتے ہیں اور