اور بعض صحابہؓ تو تتّربتر بھی ہوگئے تھے ۔آپ ایک گھڑے میں گِر پڑے تھے ۔
وانمنکم الا وار دھا کان علی ربک حتما مقضیا(مر یم :۷۲)
سے بھی معلوم ہو تا ہے کہ ضرور انبیا ء اور صلحاء کو بھی دنیا میں ایک ایسا وقت آتا ہے کہ نہایت درجہ کی مصیبت کا وقت اور سخت جا نکا ہ مشکل ہو تی ہے اور اہل حق بھی ایک دفعہ اس صعو بت میں وارد ہو تے ہیں مگر خدا تعالیٰ جلد تران کی خبر گیر ی کر تا اور ان کو اس سے نکال لیتا ہے اور چو نکہ وہ ایک تقویر معلق ہو تی ہے اس واسطے ان کی دعا ؤں ابہتال سے ٹل جا یا کر تی ہیں ۔
شیخ رحمت اللہ صاحب کی دعا
شیخ رحمت اللہ صاحب کی دکا ن کو آگ لگنے کا اند یشہ ہوا۔ تو انہوں نے ننگے سراور ننگے پا ؤں سجدے میں گر کر دعاکی تو معا ً دعا کر تے کر تے خدا تعالیٰ نے ہوا کا رخ بد ل درا اور امن امن کی آواز اگئی اور ہر طرح اطمینان ہو گیا ۔
ملا ئکہ کی حقیقت
اس پر حضرت اقدس نے فر ما یا کہ :۔
ہوا ۔پا نی وغیرہ بھی ایک طرح کے ملائلہ ہی ہیں ہاں بڑے بڑے ملا ئکہ وہ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے نا م لیا مگر اس کے سوا با قی اشیا ء مفید بھی ملا ئلہ ہی ہیں چنا نچہ اللہ تعالیٰ کے کلا م سے اس کی تصدیق ہو تی ہے جہاں فر ما تا ہے کہ
وان من شی ء الا یسبح بحمدہ(نبی اسرا ئیل:۴۵)
یعنی کل اشیاء خدا تعالیٰ کی تسبیح کر تی ہیں تسبیح کے معنے یہی ہیں کہ جو خدا تعالیٰ ان کو حکم کر تا ہے اور جس طرح اس کا منشا ہو تا ہے اسی طرح کر تے ہیں اور ہر ایک امر اس کے ارادے اور منشا سے واقع ہو تا ہے اتفاقی طور سے دنیا میں کو ئی چیز نہیں اگر خدا تعالیٰ کا ذرہ ذرہ پر تصرف تام اور اقتدار نہ ہو تو وہ خدا ہی کیا ہوا اور دعاکی قبولیت کی اس سے کیا امید ہو سکتی ہے؟ اور حقیقت یہی ہے کہ وہ ہو اکو جد ھر چا ہے اور جب چا ہے چلا سکتا ہے اور جب ارادہ کر ے بند کر سکتا ہے اسی کے ہاتھ میں پا نی اور پا نیوں کے سمند ر ہیں جب چا ہے جوش زن کر دے اور جب چا ہے سا کن کر دے وہ ذرہ ذرہ پر قادر اور مقتد ر خدا ہے اس کی تصرف سے کو ئی چیز با ہر نہیں وہ جنہوں نے دعا سے انکا ر ہی کر دیا ہے ان کو بھی یہی مشکلات پیش آئے ہیں کہ انہوں نے خدا کو ہر ذرہ پر قادر مطلق نہ جا نا اور اکثر واقعات کو اتفا قی ما نا اتفا ق کچھ بھی نہیں بلکہ جو ہو ا ہے اور اگر پتہ بھی درخت سے گر تا ہے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کے ارادے اور حکمت سے گر تا ہے اور یہ سب ملا ئکہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے اشارے سے کام کرتے ہیں اور ان کی خد مت میں لگا ئے جا تے ہیں جو کدا تعالیٰ کے سچے فر ما بنر دار اور اسی کی رضا کے کواہاں ہو تے ہیں جو خدا کا بن جا تا ہے اسے خدا تعالیٰ سب کچھ عطا کر تا ہے ؎
جے توں میر ا ہو رہیں سب جگ تیر ا ہو
من کان للہ کان اللہ لہ
پھر ایسے مر تبے کے بعد انسان کو وہ رعیت ملتی ہے کہ با غی نہیں ہو تی دنیوی با دشاہوں کی رعیت تو با غی ہو جا تی ہے مگر ملا ئکہ کی رعیت ایک رعیت ہے کہ وہ با غی نہیں