سارا اضطراب اور گھبراہٹ بڑھ گئی ہو اور اس کا گذاز اور رقت اُن میں اپنا آخری دم جان کر ہی پیدا ہوئی ہو ۔کیونکہ اکثر ایک تقدیر جو معلق ہوا کرتی ہے ایسی باریک رنگ میں ہوتی ہے کہ اس کو سرسری نظر سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مبرم ہے ۔چناچہ شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی ؒ بھی اپنی کتاب فتوح الغیب میں لکھتے ہیں کہ میری دُعا سے اکثر وہ قضا جو قضا ئے مبرم کے رنگ میں ہوتی ہے ٹل جاتی ہے اور ایسے بہت سے واقعات ہوچکے ہیں مگر ان کے اس امر کا جواب ایک اَور بزرگ نے دیا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تقدیرِ معلق ایسے طور پر واقع ہوتی ہے کہ اس کا پہچاننا کہ آیا معلق ہے یا مبرم محال ہوجاتا ہے ۔اُسے سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ مبر م ہے مگر درحقیت ہوتی وہ تقدیر معلق ہے اور وہ ایسی ہی تقدیریں ہوں گی جو شیخ عبدالقادر صاحب ؒ کی دُعا سے ٹل گئی ہو کیونکہ تقدیرِ معلق ٹل جایا کرتی ہے ۔غرض اہل اللہ نے اس امر کو خوب واضح طور سے لکھا ہے کہ قضا معلق ٹل جایا کرتی ہے ۔
حضر ت عیسیٰ پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑی بھاری صعوبت اور مشکل کا وقت تھا کیونکہ ان کی اپنی ہی کتاب کے الفاظ بھی ایسے ہی ہیں کہ آخر میں فرمایا
سمع لتقو لہ
یعنی تقدیر تو بڑی سخت تھی اور بڑی مصیبت کا وقت تھا مگر اس کے تقویٰ کی وجہ سے آخر کا اس کی دعا ضائع نہ گئی بلکہ سُنی گئی ۔یہ عیسائی بد نصیب اس امر کی طرف تو خیال نہیں کرتے کہ اوّل تو خد ااور اسکا مرنا یہ دونوں فقرے آپس میں کسیے متضاد پڑے معلوم ہوتے ہیں جب ایک کان میں یہ آواز ہی پڑتی ہے تو وہ چونک پڑتا ہے کہ ایں یہ کیا لفظ ہیں؟اور پھر ماسوا اس کے ایک ایسے شخص کو خدا بنائے بیٹھے ہیں کہ جس نے نجیال اس کے ساری رات یعنی چار پہر کا وقت لغو اور بہیودہ کا م ہیں جو اس کے آقا اور مولیٰ کی منشا ء اور رضا کے خلاف تھا خواہ نخواہ ضائع کای اور پھر ساری رات رویا اورایسے درد اور گداز کے الفاظ میں دعا کی کہ لوہا بھی موم ہو مگر ایک بھی نہ سُنی گئی ۔واہ اچھا خدا تھا۔
پھر کہتے ہیں کہ اس وقت ان کی رُوح انسانی تھی نہ رُوح الوہیت ۔ہم پوچھتے ہیں کہ بھلا ان کی رُوح اگر انسانی تھی تو ا سوقت اُن کی الوہیت رُوح کہاں تھی ؟کیا وہ آرام کرتی تھی اور خوابِ غفلت میں غرقِ نوم تھی ۔خود بیچارے نے بڑے درد اور رقت کے ساتھ چِلّا چِلّا کر دُعا کی ۔حواریوں سے دعا کرائی مگر سب بے فائدہ تھی ۔وہاں ایک بھی نہ سنی گئی ۔آخر کار خدا صاحب یہودیوں کے ہاتھ سے ملکِ عدم کو پہنچے ۔کیسے قابلِ شرم اور افسوس ہیںایسے خیالات ۔ہمارے آنحضرت ﷺ پر بھی ایسا ہی ایک وقت مصیبت اور صعوبت کا آیا تھا ۔اور اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء پر ایک ایسا مشکل اور نہایت درجہ کی مصیبت کا ایک وقت ضرور آتا ہے ۔آنحضرت ﷺ پر اُحد کا معاملہ کوئی تھوڑا معاملہ تھا؟ آخر کار وہاں شیطان بھی بول اُٹھا تھ اکہ نعوذ باللہ آنحضرتﷺ مار گئے اور ہوسکتا ہے کہ بعض صحابہ ؓنے بھی اس افراتفری میں ایسا خیال کیا ہو