پھر زیور کے رہن کے متعلق سوال ہوا تو فر مایا :۔ زیور ہو کچھ ہو جب انتقا ع جائز ہے تو خواہ نخواہ تکلفات کیوں بناتے جاویں ۔اگر کوئی شخص زیور کو استعمال کرنے سے اس سے فائدہ اُٹھا تا ہے تو اس کی زکوٰۃبھی اس کے ذمہ ہے زیور کی زکوٰۃ بھی فر ض ہے چنانچہ کل ہی ہمارے گھر میں زیور کی زکوٰۃ ڈیڑھ سو روپیہ دیا ہے ۔پس اگر زیور استعمال کر نا ہے تو اس کی زکوٰۃ دے اگر بکری رہن رکھی ہے اور اس کا دودھ پیتا ہے تو اس کو گھاس بھی دے۔ (الحکم جلد۷ نمبر۱۵ صفحہ۱۱مورخہ۲۴اپریل ۱۹۰۳؁ئ) ۱۲اپر یل ۱۹۰۳؁ء (دربار شام) خواب قضائِ معلّق ہوتے ہیں ایک خواب کی تعبیر میںفرمایاکہ :۔ خواب ہر ایک انسان کو عمر بھر میں کبھی مبشر اور کبھی وحشتناک ضرور آتے ہیں ۔مگر وہی قضا مبرم اور فیصلہ کن نہیں ہوا کرتی ۔خدا تعالیٰ کی معرگت کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ قضا کبھی ٹل بھی جایا کرتی ہے خواب کے حالات خواہ مبشر ہوں یا منذر۔دونوں صورتوں میں قضاء معلق کے رنگ میں ہوا کرتے ہیں ۔اُن کے نتائج کے بَر لانے یاروکنے کے واسطے ضروری ہے کہ انسان خداتعالیٰ کے حضور دُعا کرے کہ اگر یہ امر میرے واسطے مفید اور تیری رضا کے بموجب ہے تو تُو اُسے جیسا مجھے خواب میں مبشت دکھایا ہے ایسا ہی بشارت آمیز صورت میں پوار کر ۔ورنہ منذ رہے تو اس کی خوفناک صورت سے اپنے آپ کو حفاظت میں رکھنے کے لیے بھی استغفار اور توبہ کرتا رہے۔ قضائِ معلّق دُعا سے ٹل سکتی ہَے اہلِ علم خوب جانتے ہیں کہ قضا ٹل جایا کرتی ہے اس لیے انسان پوری تضّرع خشوع و خصوع اور حضورِ قلب سے اور سچی عاجزی ،فروتنی اور دردِ دل سے اُس سے دُعا کرے ۔خواب میں دیکھے ہوئے حالات کے متعلق خواہ وہ کسی رنگ میں ہوں ۔دونوں صورتوں میں دُعا کی ضرورت ہے ۔ ہمیں باربار خیال آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کو بھی کوئی ایک وحشت ناک ہی معاملہ ہوا ہوگا کہ انہوں نے سا ری رات دُعا میں صرف کی اور نہایت درجہ کے درد انگیز اور بلبلانے والے الفاظ سے خدا تعالیٰ کے حضور دُعا کرتے رہے ۔ممکن ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر معلق کو مبرم ہی خیال کر بیٹھے ہوں اور اسی وجہ سے ان کا یہ