۱۲اپر یل ۱۹۰۳؁ء (صبح کی سیر) بیماری کی افادیت بیماریوں کے ذکر پر فر مایا کہ :۔ بیماری کی شدت سے موت اور موت سے خدا یاد آتا ہے ۔اصل یہ ہے کہ خلق الا نسان ضعیفا(نساء :۲۹) انسان چند روز کے لیے زندہ ہے ۔ذرہ ذرہ کا وہی مالک ہے جو حّی وقیوم ہے ۔جب وقتِ موعود آجاتا ہے تو ہر ایک چیز السلام علیکم کہتی اور سارے قویٰ رخصت کر کے الگ ہو جاتے ہیں اور جہاں سے یہ آیا ہے وہیں چلا جاتا ہے۔ طاعون کا علاج طاعون کے ذکر پر فر مایا کہ :۔ آسمانی علاج ابھی تک لوگوں نے غیر مفید سمجھا ہو ا ہے ۔سچی توبہ اور تقویٰ کی طرف پورا رجوع نہیں کیا مگر یاد رکھیں کی خد ارجوع کرائے بغیر نہیں چھوڑے گا ۔ رکوع وسجود میں قرآنی دُعا کرنا مولوی عند القادر صاحب لدھیانوی نے سوال کیا کہ رکوع وسجود میں قرآنی آیت یادُعاکا پڑ ھنا کیسا ہے ؟فر مایا سجدہ اور رکوع فروتنی کا وقت ہے اور خدا تعالیٰ کا کلام عظمت چاہتا ہے ماسواس کے حدیثوں سے کہیں ثابت نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بھی رکوع یا سجود میں کوئی قرآنی دُعا پڑھی ہو ۔ رہن رہن کے متعلق سوال ہو ا۔ آپ نے فر مایا کہ :۔ موجودہ تجاویز رہن جائز ہیں گذشتہ زمانہ میں یہ قانون تھا کہ اگر فصل ہو گئی تو حکا م زمینداروں سے معاملہ وصال کر لیا کر تے تھے اگر نہ ہوتی تو معاف ہو جا تا اور اب خواہ فصل ہو یا نہ ہو حکام اپنا مچالبہ وصال کر ہی لیتے ہیں پس چونکہ حکامِ وقت اپنا مطالبہ کسی صورت میں نہیں چھوڑتے تو اس طر ح یہ رہن بھی جائز رہا کیو نکہ کبھی فصل ہو تی اور کبھی نہیں ہو تی تو دونو صورتوں میں مر تہن نفع ونقصان کا ذمہ دار ہے ۔پس رہن عدل کی صورت میں جائز ہے ۔آجکل گور نمنٹ کے معاملے زمینداروں سے ٹھیکہ کی صورت ہو گئے ہیں اور اس صورت میں زمینداروں کو کبھی فائدہ اور کبھی نقصان ہو تا ہے ۔ایسی صورت عدل میں رہن نیشک جائز ہے ۔ جب دودھ والا جانور اور سواری کا گھوڑا رہن با قنضہ ہو سکتا ہے اور اس کے دودھ اور سواری سے مر تہن فائدہ اُٹھا سکتا ہے تو پھر زمین کا رہن تو آپ ہی حاصل ہو گیا ۔