اُمّت میں آنحضرت ﷺ کی شریعت کا خادم بھی ایک صاحب الہام نہ آیا ۔گویا کہ سارے کا سارا باغ ہی بے ثمر رہ گیا ۔پہلے لوگوں کے باغ تو مثمر ہوئے مگر ان کے اعتقاد کے بموجب نعوذ باللہ آپؐ کا باغ بے برگ و بار ہوا۔اگر ان لوگوں کا یہی دین اور ایمان ہے تو خُدادنیا پر رحم کرے ۔اور لوگوں کو ایسے ایمان سے نجات دیوے ۔ ایمان ایمان کی نشانی ہی کیا ہے اور اس کے معنے کیا ہیں یہی کہ مان لینااور پھر اس پر یقین آجانا ۔جب انسان ایک بات کو سچے دل سے مان لیتا ہے تو اس کا اس پر یقین ہوجاتا ہے اور اسی کے مطابق اس سے اعمال بھی سرزد ہوتے ہیں ۔مثلاً ایک شخص جانتا ہے کہ سنکھیا ایک زہر ہوتا ہے اور اس کے کھانے سے انسان مَر جاتا ہے یا ایک سانپ جان کا دشمن ہوتا ہے جس کو کاٹتا ہے اس کی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں ۔تو اس ایمان کے بعد تو نہ وہ سنکھیا کھاتا اور نہ ہی سانپ کے سوراخ میں اُنگلی ڈالتا ۔ آجکل طاعون کے متعلق لوگوں کو ایمان ہے کہ اس کی لاگ سے انسان ہلاک ہوجاتا ہے ۔اسی واسطے جس مکان میں طاعون ہو اس سے کوسوں دور بھاگتے ہیں اور چھوڑ جاتے ہیں غرض جس چیز پر ایمان کامل ہوتا ہے اس کے مطابق اس سے عمل بھی صادر ہوا کرتے ہیں ۔مگر کیا وجہ ہے کہ خدا کے موجود ہونے کا ایمان ہو اور جزا سزا کے دن کا ایمان ہو اور حساب کتاب یاد ہوتو پھر گناہ باقی رہ جاویں۔یہ مسئلہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا ۔کیا خدا کا ایمان سانپ کے خوف سے بھی گیا گذرا ہے؟مومن ہونے کا دعویٰ ہے اور پھر بایں چوری ،جھوٹ ، زنا ،بد نظری ،شراب خوری ،فسق و فجور میں فرق نہیں نفاق اور ریا کاری کی تصدیق نہیں۔زبانی ایمان کا دعویٰ ہے ورنہ عملی طور پر ایمان اور دین کچھ بھی چیز نہیں۔ ہم صاف مشاہدہ کرتے ہیں کہ انسان کو جس چیز کے مفید ہونے کا ایمان ہے اسے ہر گز ہر گز ضائع نہیں کرتا کوئی امیراور کوئی غریب ہم نے نہیں دیکھا جو اپنے گھر سے اپنی جائیداد یا دولت کو جو اس کے پاس ہے باہر نکال پھنیکتا ہو بلکہ ہم نے تو کسی کو ایک پیسہ بھی پھنیکتے نہین دیکھا ۔پیسہ تو کجا ایک سوئی بھی کمائی ہوئی ٹوٹ جاے تو اُسے رنج ہو تا ہے کہ میری کار آمد چیز تھی ۔مگر ایمان باللہ کی قدر ان لوگوں کی نظر میں اُس سوئی کے برابر بھی نہیں اور نہ اس کا فائدہ ایک سوئی کے برابر لوگ جانتے ہیں ۔پس جب ایمان ایسا ہو تا ہے کہ ایک سوئی کے برابر بھی اس کی قدر ان میں نہیں ہو تی ۔تو اسی کے مطابق اُن کو انسان سے نفع بھی نہیں پہنچتا اور نہ ان کو وہ کمال حاصل ہو تا ہے کہ خدا ان پر الہامات کے دروازے کھول دے۔ (الحکم جلد۷ نمبر۱۴ صفحہ۵۔۶مورخہ۱۷پریل ۱۹۰۳؁ئ)