گفتار سے مشرف ہوتی ہیں۔حضرت موسیٰ کی ماں کو بھی ہمکلامی کا شرف حاصل تھا۔حضرت عیسیٰ کے حواریوں کو بھی یہ نعمت ملی ہوئی تھی۔خضر کو بھی الہام ہوت تھا تو کیا اسلام ہی ایسا گیا گذرا تھا؟اور خدا تعالیٰ کی نظر میں گِرا ہوا تھا؟کہ اسے بنی اسرائیل کی عورتوں سے بھی پیچھے پھینک دیا۔ان وہابیوں کا تو یہ اعتواد ہے کہ آنحضرت ﷺکے بعد صحابہ ؓ میں سے کسی کواور نہ بعد میں ائمہ میں سے کسی کو اَور نہ ہی بڑے بڑے خدا تعالیٰ کے ولیوں مثلاًحضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ وغیرہ ان میں سے کسی کو بھی الہام نہیں ہوا۔یہ سارے کے سارے ہی خشک مُلاّں تھے ان میں سے کسی کو بھی خدا تعالیٰ کے مکالمے مخاطبے کا شرف نہ ملا ہوا تھا۔انکے ہاتھ میں بھی صرف قصّے کہانیاں ہی تھیں۔ ولکن رسول اللہ و خاتم النبین (الا حزاب:۴۱) کے معنے ہی ان کے نزدیک یہی ہیں کہ الہام کا دروازہ آپ کے بعد ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا اور آپ کے بعد آپ کے بعد آپ کی اُمّت سے یہ برکت کہ کسی کو مکالمات اور مخاطبات ہوں بالکل اُٹھ گئی مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہر صدی اس امر کی منتظر ہوتی ہے کہ اس اُمّت میں سے چند افراد یا کوئی ایک فرد ضرور خدا تعالیٰ کی ہمکلامی سے مشرف ہوں گے جو اسلام پر سے گردو غبار کو دُور کرکے پھر اسلام کے روشن چہرے کو چمکا کر دکھایا کریں ان لوگوں سے اگر پوچھا جاوے کہ تمہاریپاس سچائی کی دلیل ہی کونسی ہے؟کوئی معجزات یا خارق عادت تمہارے پاس نہیں تو دوسروں کا حوالہ دیدینگے ۔خود خالی اور محروم ہیں۔صحابہؓ آنحضرت ﷺ کے پاس وہ کر اور آپ کی صحبت کی برکت سے آنحضرت کے ہی رنگ میں رنگین ہوگئے تھے اور ان کے ایمانوں کا تزکیہ اور ترتیب ہوتی گئی اور آخر کار ترقی کرتے کرتے وہ کمالِ تمام تک پہنچ کر آنحضرت ﷺ کے رنگ میں رنگین ہوگئے مگر ان لوگوں کے ایمانوں کو مضبوط کرنے کے واسطے اگر اُن سے پوچھا جاوے تو کیا ہے؟تیرہ سوبرس کا حوالہ دیں گے کہ اس وقت یہ معجزات اور خارق عادت ظاہر ہوا کرتے تھے پیشگوئیاں بھی تھیں مگر اَب کچھ بھی نہیں۔ خیرِ اُمم مَیں نہیں سمجھتا کہ اگر خدا تعالیٰ نے اُسے شرّالامم بنانا تھا تو اُس کانام قرآن شریف میں خیر اُمّت لر لے کیوں پکارا؟کیونکہ اس کی موجودہ حالت بقول مولویوں کے بدترین معلوم ہوتی ہے ۔اندرونی و بیرونی حملوں سے پاش پاش ہوا جاتا ۔دجّال نے آکر ہر طرف سے گھیر لیا ہے تو پھر ایسے مصیبت کت وقت میں اگر خبر گیری بھی کی تو ایک اَور دجّال بھیج دیا جو دین کا حامی ہونے کی بجائے بیخ کُن ہے اور ان کے لوگ ہزاروں مجاہدے اور ریاضت زہد و تعبد کریں مگر خدا سے مکالامہ کا شرف کبھی نہیں نصیب ہوتا ہے اور ایسے گئے گذرے ہیں کہ دوسری امتوں کی عورتوں سے بھی درماندہ اور پس پا افتادہ ہیں ۔ان میں تو ایک موسوی شریعت کے خادم ہزاروں نبی آئے اور ایک ایک زمانہ میں چار چار سو نبی بھی ہوتے رہے مگر اس