و لرزاں رہتا ہے اور زندگی کو ناپائیدار جانتا اور سفلی لذّات کی ہوس اور خواہش کو ترک کرکے خدا تعالیٰ کی رضا کر حصول میں لگ جاتا ہے اور درحقیقت وہ اسی وقت گناہ کی آلودگی سے علیحدہ ہوتا ہے۔ جب تک تازہ نور انسان کو آسمان پر سے نہ ملے اور خدا تعالیٰ کا مشاہدہ نہ ہو جاوے تب تک پورا ایمان نہیں ہوتا۔جب تک ایمان کمال درجہ تک نہ پہنچا ہو تب تک گناہ کی قید سے رہائی ناممکن ہے۔بجز الہام کے ایمان کی تصویر لوگوں کے پاس ہوتی ہے۔اس کی ماہیت سے لوگ بے بہرہ اور خالی محض ہوتے ہیں تعجب ہے کہ یورپ تو آجکل بہت سی ٹھوکریں کھا کر ان امور کو تسلیم کرتا جاتا ہے مگر ہمارے مولوی انکار وکفر میں غرق ہیں اگر الہام ہونے کا نام بھی لیا جاوے تو کفر ما فتویٰ تیار ہے۔وحی کے نزول کا دعویٰ کرنے والا تو اکفر اور ضالّ اور دجّال ہے۔افسوس آتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کے کلام سے کیسے دور جاپڑے ہیں اور ان سے فہم قرآن چھین لیا گیا ہے۔بھلا اگر خدا تعالیٰ نے اس امت کو اس شرف سے محروم ہی رکھنا تھا تو یہ دعا ہی کیوں سکھائی اھدنا الصراط المستقیم۔صراط الذین انعمت علیھم۔ (الفاتحہ:۶،۷) اس دعا سے تو صاف نکلتا ہے کہ یا الہیٰ ہمیں پہلے منعم علیہم لوگوں کی راہ پر چلا اورجو ان کو انعامات ملے ہمیں بھی وہ انعامات عطا فرما۔ انعمت علیھم کون تھے؟خدا تعالیٰ نے خود ہی فرمادیا ہے کہ نبی۔صدیق۔شہید۔صالح لوگ تھے اوران کا برابر انعام یہی الہام اور وحی کا نزول تھا۔بھلا اگر خدا تعالیٰ نے اس دعا کا سچا نتیجہ جو ہے اس سے محروم ہی رکھنا تھا تو پھر کیوں ایسی دعا سکھائی؟ہمیں تعجب آتا ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا۔یہی تو ایک چیز تھی۔جو نہایت نازک اور روح کی غذا تھی۔جو انسان اس کے حصول کا پیاسا نہیں۔ممکن نہیں کہ اس کے اندرپاک تبدیلی آسکے اور جب تک انسان اس طرح خدا تعالیٰ کا چہرہ نہ دیکھے اور اس کی سریلی آواز سے بہرہ ور نہ ہو۔تب تک ممکن نہیں کہ گناہ کے زہر سے بچ سکے۔خیر خود تو محروم اور بے نصیب تھے ہی مگر دوسروں کو جو اس قسم کے خیال رکھیں کہ خدا تعالیٰ کسی سے ہمکلام ہو سکتا ہے کافر جانتے ہیں۔وہ تو دوسروں کو کافر کہتے ہیں۔مگر ہمیں خود ان کے ایمان کا خطرہ ہے کہ ان کا ایمان ہی کیا ہے جو اس نعمتِ عظمیٰ سے محروم ہیں اور خدا تعالیٰ کے حضور دعا کے واسطے ہاتھ ہی کس طرح اُٹھا سکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے ذرائع دو ہی چیزین ہیں کہ جو خدا تک انسان کو پہنچا سکتی ہیں۔دیدار۔جس کی موسیٰ نے بھی درخواست کی تھی اور وہ بھی الہام ہی کی وجہ سے تھی۔کیونکہ جب انسان اس کی طرف ترقی پاتا ہے تو اَور اَور مدارج کی بھی اس کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ ترقی کرنا چاہتا ہے۔ دوسری چیز خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی گفتار ہے اور یہ فضل خدا تعالیٰ کا تو ایسا ہوا کہ عورتوں تک بھی