جاتا ہے ۔اس طرف سے فرق آیا تو معاً اُس طرف سے بھی فرق آجاتا ہے ۔ سر پر ہاتھ رکھنا پھر اسی شخص نے عرض کی کہ میرے سر پر ہاتھ رکھیں آپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا اور اس طرح اخلاقِ فاضلہ کا ثبوت دیا۔ (الحکم جلد۷ نمبر ۱۵ صفحہ۱۰۔۱۱ مورخہ ۲۴اپریل ۱۹۰۳؁ئ) ۱۱، اپریل ۱۹۰۳ئ؁ (دربارِشام) تکمیلِ ایمان کا ذریعہ اصل میں ایمان کے کمال تام کا ذریعہ الہاما تِ صحیحہ اور پیشگوئی ہوتے ہیں ایمان کبھی قصوں کہانیوں سے ترقی نہیں پکڑتے۔عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ انسان جس مذہب میں پیدا ہوتا ہے۔جس راہ ورسم کا پابند اپنے آباء واجدادکو پاتا ہے اکثر اسی کا پابند ہوا کرتا ہے۔اگر ایک بت پرست کے گھر میں پیدا ہوا ہو تو بت پرستی ہی اس کا شیوہ ہوگا۔اور اگر ایک عیسائی کے ہاں اس نے تربیت پائی ہے تو وہی خُوبُو اس میںپائی جاوے گی۔مگر اس کے مسائل اور اس کے بنیادی عقائد کا بہت سا حصہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کی عقل وفہم میںکچھ بھی نہیں آیا ہوتا۔صرف لکیر کا فقیر ہوتا ہے بچپن اور اِوائل عمر میں تو کیا کوئی ان مذاہب کی حقیقت سے آگاہ ہوگا۔عیسوعیت کے حامی تو اگر ان سے کوئی پوری تعلیم کا پورا ھوان عاقل بالگ بھی ان کی تثلیث کے راز کو پوچھے تو کہدیتے ہیں کہ راز ہے جو ایشیائی دماغ کی بناوٹ کے لوگوں کی سمجھ سے بالا تر ہے اور یہی حال بُت پرست کا ہے۔ اسلام کی حقانیت ہاں البتہ اسلام ایک دنیا میں ایسا مذہب ہے کہ جس کے عقائد ایسے ہیں کہ انسان ان کو سمجھ سکتا ہے اور وہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔اسلام کے مسائل ایسے ہیں کہ کسی خاص دماغ یا عقل کے واسطے خاص نہیں بلکہ وہ تمام دنیا کے واسطے یکساں ہیں اور ہر ایک کی سمجھ میں آسکتے ہیں۔مگر وہ زندہ ایمان کہ جس سے انسان خدا تعالیٰ کو گویا دیکھ لیتا ہے اور وہ نور جس سے انسان کی آنکھ کھل کر اس کو ایقان تام حاصل ہو جاوے وہ صرف الہام ہی پر منحصر ہے۔الہام سے انسان کو ایک نور ملتا ہے جس سے وہ تاریکی سے مبّرا ہوجاتا ہے اور ایک قسم کا اطمینان اورتسلی اسے ملتی ہے اس کا نفس اس دن سے خدا تعالیٰ میں آرام پانے لگتا ہے اور ہر گناہ فسق وفجور سے اس کا دل ٹھنڈا ہوجاتا ہے اس دل امید اور بیم سے بھر جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی حقیقی معرفت کی وجہ سے وہ ہر وقت ترساں