بھی نہ تھا اور اب آج طاعون کی وجہ سے لوگ آتے اور زبانِ حال سے کہتے ہیں
یا مسیح الخلق عدوانا
اور کثر اپنے خطوں میں لکھتے ہیں ۔اب یاتو یہ ثابت کروکہ یہ الہام ہمارا من گھڑت ہے اور ہم نے اپنی کوشش سے چند لوگوں کو اس کے مکمل کرنے کے واسطے ملا لیا ہے یا یہ قبول کرو کہ یہ جو دودواور چارچار سو آدمی یکدم بیعت کرتے ہیں یہ خداتعالیٰ کی تائید ہے۔
جس زور کے ساتھ طاعون کی وجہ سے لوگ اس سلسلہ میں داخل ہورہے ہیں اس طرح کسی کو یقین چھوڑ وہم بھی نہ تھا کیونکہ یہ الہام اس وقت کا ہے جب ا ن لوگوں کا نام ونشان بھی نہ تھا ۔اس لیے ان تمام ناموں کو محفوظ رکھا جاوے اور اگر ان لوگوں کا الگرجسٹر نہ ہو تو رجسٹر بیعت ہی میں سُرخی کیساتھ ان ک درج کیا جاوے ۔
کنچنی کی مسجد میںنماز
ایک شخص کے سوال پر فرمایا:۔
کنچنی کی بنوائی ہوئی مسجد میں نماز درست نہیں۔
طریقِ ادب سے بعید سوالات
پھر ایک شخص نے پوچھا کہ قیامت کے دن بھی ہماری جماعت اسی طرح آپ کے پیچھے ہوگی ؟فرمایا
یہ تفصیلیں نہیں ہوسکتی ۔ایسے سوال طریقِ ادب سے بعید ہیں ۔یہ بات اللہ تعالیٰ پر چھوڑ و۔
حق کی چارہ جوئی
سوال ہوا کہ مخالف ہم کو مسجد میں نمازپڑھنے نہیں دیتے حالانکہ مسجد میں ہمارا حق ہے ۔ہم اس سے بذریعہ عدالت فیصلہ کرلیں؟
فرمایا:۔
ہاں اگر کوئی حق ہے تو بذریعہ عدالت چارہ جوئی کرو ۔فساد کرنا منع ہے ۔کوئی دنگہ فساد نہ کرو۔
مخالف کے گھر کی چیز کھانا
سوال ہوا کہ کیا مخالفوں کے گھر کی چیز کھا لیویں؟ فرمایا:۔
نصاریٰ کی پاک چیزیں بھی کھا لی جاتی ہیں ۔ہندوئوں کی مٹھائی وغیرہ بھی ہم کھا لیتے ہیں پھر ان کی چیز کھا لینا کیا منع ہے ۔
مخالف سے حسنِ معاشرت
ہاں مَیں نماز سے منع کرتا ہوں کہ ان کے پیچھے نہ پڑھو ۔ اس کے سوائے دنیاوی معملات میں بے شک شریک ہو ۔احسان کرو،مروت کرو اور ان کو قرض دو اور اُن سے قرض لو اگر ضرورت پڑے تو صبر سے کام لو ۔شائد کہ اس سے سمجھ بھی جاویں۔
نماز کی اہمیت
ایک شخص نے عرض کی کہ میرے لیے دُعا کریں کہ نماز کی توفیق اور استقامت ملے ۔فرمایا:۔
حقیقت میں جو شخص نماز کو چھوڑتا ہے اس سے خدا کے ساتھ تعلقات میں فرق آجاتا