ضرور ہے اور وہ واسطہ قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ ہیں ۔اس واسطے جو آپ ؐ کو چھوڑتا ہے وہ کبھی با مراد نہ ہوگا۔انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اُسے قبول کرے اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت ﷺ کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہوجائو ۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔
قل یعبادی الذین اسر فوا علی انفسھم (الزم :۵۴)
اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوقِ رسول کریم ﷺ کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپؐ پر درود پڑھو ۔اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو ۔سب حکموں پر کار بند رہو جیسے کہ حکم ہے
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتعبیونی یحببکم اللہ (آل عمران:۳۲)
یعنی اگر تم خدا تعالیٰ سے پیار کرنا چاہتے ہو تو آنحضرت ﷺ کے پورے فرمان بردار بن جائو اور رسول کریم ﷺ کی راہ میں فنا ہوجائو تب خدا تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔
جب لوگ بدعتوں پر عمل کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ کیا کریں دُنیا سے چھٹکارا نہیں ملتا یا کہتے ہیں کہ ناک کٹ جاتی ہے ۔ایسے وقت میں گویا انسان خداتعالیٰ کے اس فرمان کو چھوڑتا ہے جو رسول کریم ﷺ کی اطاعت کا ہے اور خیال کرتا ہے کہ خداتعالیٰ سے محبت کرنابے فائدہ ہے ۔
(البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ صفحہ۱۰۸۔۱۰۹ مورخہ ۲۴اپریل ۱۹۰۳ئ)
۱۱ ،اپریل ۱۹۰۳ئ
(صبح کی سیر )
دلیل کی صداقت
فرمایا:۔
جب ہمیں یہ الہام ہوا تھا
وا صنع الفلک با عیننا ووحینا
اس وقت تو ایک شخص بھی ہمارا مرید نہ تھا ۔اگر یہ سلسلہ من عندِغیراللہ ہوتا تو آج تک الٰہی بخش کی طرح بیکار ہی پڑا رہتا ۔کیا یہ ثبوت کافی نہیں؟
الٰہی بخش تو میرے الہامات کے پیچھے پیچھے چلتا ہے ۔ایسا کیوں کرتا ہے کہ الہام ہمارے سالہا سال سے شائع ہوچکے ہیں اُن کی اب نقل کرتا ہے ۔اصل میں جس طرح درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح حق اپنے انوار سے شناخت کیا جاتا ہے۔
اسی طرح
یا مسیح الخلق عدوانا
اس وقت سے چھپا ہوا اور شائع شدہ ہے جبکہ طاعون کا کہیں نام و نشان