نماز کو ئی ایسی ویسی شئے نہیں ہے بلکہ یہ وہ شئے ہے جس میں
اھدنا الصراطالمستقیم الخ (الفاتحہ:۶)
جیسی دعا کی جا تی ہے اس دعا میں بتلا یا گیا ہے کہ جو لوگ بر ے کا م کرتے ہیں ان پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا غضب آتا ہے۔الغرض اللہ تعالیٰ کوخوش کر نا چا ہیئے جو کام ہو تا ہے اسد کے ارادہ سے ہو تا ہے۔ چنا نچہ طا عون بھی اسی کے حکم سے آئی ہے یہ دنیا سے رخصت نہ ہو گی جب تک ایک تغیر عظیم پیدا نہ کر لے جواس سے نہیں ڈرتا وہ بڑا بدبخت ہے اور اس کے استیصال کے لیے ایک ہی راہ ہے وہ یہ کہ اپنے آپ کو پاک کرو کیو نکہ اگر پاک ہو کر مر بھی جاوے گا تو وہ بہشت کو پہنچے گا مر نا تو سب نے ہے مومن نے بھی اور کافر نے بھی مگر مو من اور کا فر کی موت میں خدا تعالیٰ فر ق کر دیتا ہے ۔
دیکھو ان باتوں کو منتر جنتر نہ سمجھو اور یہ خیا ل نہ کرو کہ یو نہی فا ئدہ ہو جاوے گا جیسے کہ بھوکے کے سامنے روٹیوں کا انبا ر فا ئدہ نہیں دیتا جب تک کہ وہ نہ کھا وے اسی طرح آج کے اقرار کے مطا بق جب تک کو ئی اپنے آپ کو گنا ہ سے نہ بچا وے گا اسے بر کت نہ ہو گی یا درکھو کہ مَیں اس بات پر شاہد ہوں کہ میں نے تم کو سمجھا دیا ہے ۔
ان تم کو چا ہیئے کہ برائیوں سے بچنے کے واسطے خدا تعالیٰ سے دعا کروتا کہ بچے رہو جو شخص بہت دعا کرتا ہے اس کے واسطے آسمان سے تو فیق نازل کی جا تی ہے گنا ہ سے بچے اور دعا کا نیتجہ یہ ہو تا ہے کہ گنا ہ سے بچنے کے لیے کو ئی نہ کو ئی راہ اسے نل جا تی ہے جیسا کہ خدا تعالیی فر ما تا ہے
یجعل لہ مخرجا
یعنی جو امور اسے کشا ں کشاں گنا ہ کی طرف لے جا تے ہیں اللہ تعالیٰ ان امور سے بچنے کی تو فیق اسے عطا فر ما تا ہے قرآن کو بہت پڑھنا چا ہیئے اور پڑ ھنے کی تو فیق خدا تعالیٰ اسے طلب کر نی چا ہیئے کیو نکہ محنت کے سوانسان کو کچھ نہیں ملتا کشا ن کو دیکھو کہ جب وہ زمین میں ہل چلا تا ہے اور قسم قسم کی محنے اٹھا تا ہے تب پھل حاصل کر تا ہے مگر محنے کے لیے زمین کا اچھا ہو نا شرط ہے اسی طرح انسان کا دل بھی اچھا ہو سامان بھی عمدہ ہو سب کچھ کر بھی سکے تب جا کر فا ئدہ پاوے گا
لیس الا نسان الا ما سعی (النجم:۴۰)
دل کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط با ندھنا چا ہیئے جب یہ ہو گا تو دل خود خدا سے ڈرتا رہے گا اور جب دل ڈرتا رہتا ہے تو خدا تعالی کو اپنے بندے پر خود رحم آجا تا ہے اور پھر تمام بلاؤں سے اسے بچا تا ہے ۔
گناہ سے بچو ۔نماز ادا کرو ۔دین کو دنیا پر مقدم رکھو ۔خدا تعالیٰ کا سچا غلام وہی ہو تا ہے جو دین کا دنیا پر مقدم رکھتا ہے۔
لقاء الہی کا واسطہ قرآن اور آنحضرتؐ ہیں
ہر ایک شخص کو خودبخو د خدا تعا لیٰ سے ملاقات کرنے کی طاقت نہیں ہے اس کے واسطے واسطہ