مقررہ شرائط کو کا مل طور پرادا کرے جیسے ایک انسان اگر دور بین سے دور کی شئے نزدیک دیکھنا چا ہے تو جب تک وہ دور بین کے آلہ کو ٹھیک تر تیب پر نہ رکھے فا ئدہ نہیں اٹھا سکتا یہی حال نماز اور دعا کا ہے اسی طرح ہر ایک کام کی شرط ہے جب وہ کا مل طور پر ادا ہو تو اس سے فا ئدہ ہوا کرتا ہے اگر کسی کو پیاس لگی ہواور پا نی اس کے پاس بہت سا موجود ہے مگر وپ پئے نہ تو فا ئدہ نہیں اٹھا سکتا یا اگر اس میں سے ایک دو قطر ہ پئے تو کیا ہو گا؟ پوری مقدار پینے سے ہی فا ئدہ ہو گا غرضکہ ہر ایک کام کے واسطے خدا تعالیٰ نے ایک حد مقر ر کی ہے جب وہ اس حد پر پہنچتا ہے تو یہ با برکت ہو تا ہے اور جو کام اس حد تک نہ پہنچیں تو وہ اچھے نہیں کہلا تے اور نہ ان میں برکت ہو تی ہے ۔ عاجزی عاجز ی اختیار کر نی چا ہیئے عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے اس کا سیکھنا ہی کیا ہے انسان تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے ۔ ما خلقت الجن والالس الا لیعبدون۔(الذاریات :۵۷) تکبر وغیرہ سب بناوٹی چیریں ہیں اگر وہ اس بناوٹ کو اتا ر دے تو پھراس کی فطرت میں عاجز ی ہی نظر آویگی اگر تم لوگ چا ہتے ہو کہ خیریت سے رہواور تمہارے گھروں میںامن رہے تو مناسب ہے کہ دعا ئیں بہت کرو اور اپنے گھروں کو دعاؤں سے پر کرو جس گھر میں ہمیشہ دعا ہو تی ہے خدا تعالیٰ اسے بر باد نہیں کیا کرتا لیکن جو سستی میں زندگی بسر کرتا ہے اسے آخر فرشتے بیدار کرتے ہیں اگر تم ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یادرکھو گے تو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ بہت پکا ہے وہ کبھی تم سے ایسا سلوک نہ کر یگا جیسا کہ فاسق فا جر سے کرتا ہے خدا تعالیٰ کو کو ئی ضرورت نہیں کہ تم کو عذاب دیوے بشرطیکہ تم ایمان لاؤاور شکر کرو انسان کو عاب ہمیشہ گنا ہ کے با عث ہو تا ہے خدا تعالیٰ فر ما تا ہے ان لا یغیرما بقوم حتی یغیرواما بانفسھم۔(الدعد:۱۲) اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بد لتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ کرے جب تک انسان اپنے آپ کو صاف نہ کرے تب تک خدا تعالیی عذاب کو دور نہیں کرتا ہے ۔ یہ دنیا ود بخود نہیں ہے اس کے لیے ایک خالق ہے اور جو کچھ ہورہا ہے اسی کی مرضی سے ہو رہا ہے بغیر اس کی رضا کے ایک ذرہ حرکت نہیں کر سکتا جو اللہ تعالیٰ سے تر ساں رہے گا وہ خود محسوس کر یگا کہ اس میں ایک فرقان کی طرح نہیں بلکہ ان کے لیے وہ باعث بر کت ہو تی ہیں۔ دغا باز آدمی کی نماز قبول نہیں ہو تی وہ اس کی منہ پر ماری جا تی ہے کیو نکہ وہ دراصل نماز نہیں پڑ ھتا بلکہ خدا تعالیٰ کو دشوت دینا چا ہتا ہے مگر خدا تعالیٰ کو اس سے نفرت ہو تی ہے کیو نکہ وہ رشوت کو خود پسند نہیں کرتا۔