ایک شخص نے ایک دفعہ روزہ رکھا جب افطار کیا تو پا نی پیتے ہی لہیٹ گیا اس کے لیء پا نی ہی نے زہر کا کام کیا ۔
جو کام ہے خواہ معاشرہ کا خواہ کو ئی اور جب تک اس میں آسمان سے برکت نہ پڑے تب تک مبا رک نہیں ہو تا ۔غرضکہ اللہ تعالیٰ کے تصرفا ت پر کامل یقین چا ہیئے جس کا یہ ایمان نہیں ہے اس میں دہریت کی ایک رگ ہے پہلے ایک امر آسمان پر ہو رہتا ہے تب زمین پر ہو تا ہے ۔
لا ف وگزاف کا نا م تو حید نہیں مو لویوں کی طرف دیکھو کہ دوسروں کو وعظ کر تے اور آپ کچھ عمل نہیں کر تے اسی لیے اب ان کا کسی قسم کا اعتبا ر نہیں رہا ہے ایک مو لوی کا ذکر ہے کہ وہ وعظ کر رہا تھا سا معین میں اس کی بیوی بھی مو جو د تھی صدقہ ،خیرات اور مغفرت کا وعظ اس نے کیا اس سے متا ثر ہو کر ایک عورت نے پا ؤں سے ایک پا زیب اتا ر کر و اعظ صاحب کو دیدی جس پر واعظ صاحب نے کہا تو چا ہتی ہے کہ تیرا دوسرا پاؤ ں دوزخ جلے ؟یہ سنکر اس نے دوسری بھی دیدی جب گھر میں آئے تو بیوی نے بھی اس وعظ پر عملدرآمد چا ہا کہ محتاج کو کچھ دے مو لوی صاحب نے فر ما یا کہ یہ با تیں سنا نے کی ہو تی ہیں کر نے کی نہیں ہو تیں اور کہا کہ اگر ایسا کا م ہم نہ کر یں تو گذارہ نہیں ہو تا انہیں کے متعلق یہ ضرب المثل ہے ؎
واعظاں کیں جلوہ بر محراب ومنبر مے کنذ ؛ چو ں نجلوتمے روندآں کا ردیگر مے کنذ
تعبیر رؤیا
بڑ۔ یع نی بو ہڑ کے درخت سے مراد نصاری ٰ کا دین ہے کہ جس کی عظمت اور سر کشی تو بہت ہے مگر پھل ندارد۔ (البدر جلد۲نمبر۱۴صفحہ۱۰۷۔۱۰۸مورخہ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ئ)
۱۰؍ اپر یل ۱۹۰۳ء
بعد نماز جمعہ چند اشخاص نے بیعت کی جس پر حضرت اقدس نے ذیل کی تقریر فر ما ئی :۔
بیعت ِتو بہ
اس وقت جو تم بیعت کر تے ہو بیعت تو بہ ہے اللہ تعالیٰ وعدہ فر ما تا ہے کہ جو کو ئی تو بہ کر یگا اس کے گناہ بخش دو نگا گنا ہ کے معنے ہیں کہ انسان دیدہ دانستہ اللہ تعالیٰ کی نا فر ما نی کر ے اور ان احکام کے بر خلاف کر ے جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور ان با توں کو کر ے جن کے کر نے سے منع فر ما یا ہے گنا ہ ایسی چیز ہے کہ جس کا نیتجہ اس دنیا میں بھی بد ملتا ہے اور آخرت میں بھی ۔
جب انسان تو بہ کر تا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گنا ہوں کو فر اموش کر دیتا ہے اور تا ئب کو بیگنا ہ سمجھتا ہے مگر