کو جائز سمجھتے ہیں۔مگر بہ شرط ۔اصلاح نیّت کے ساتھ ہو ۔کیونکہ تمام نتائج نیّت پر مرتب ہو تے ہیں ۔حدیث میں آیا ہے کہ ایک صحابی ؓنے گھر بنوایا اور آپؐکو مجبور کیا کہ آپ ؐ اس میں قدم ڈالیں ۔آپؐ نے اس مکان کو دیکھا۔اس کے ایک طرف کھڑکی تھی ۔آپؐ نے دریافت کیا کہ یہ کس لیے بنائی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ ٹھنڈی ہو ا کے آنے کے واسطے۔آپؐ نے فرمایا اگر تواذان سننے کے واسطے اس کی نیّت رکھتا تو ہوا تو آہی جاتی اور تیری نیّت کا ثواب بھی تجھے مِل جاتا ۔ (الحکم جلد ۷ نمبر ۱۵ صفحہ ۱۰ مورخہ ۲۴اپریل ۱۹۰۳؁ئ) توحید اور اسباب پرستی توحید اس کا نام نہیں کہ صرف زبان سے اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد ارسول اللہ کہہ لیا۔بلکہ توحید کہ یہ معنی ہیں کہ عظمتِ الٰہی بخوبی دل میں بیٹھ جاوے اور اس کے آگے کسی دوسری شئے کی عظمت دل میں جگہ نہ پکڑے۔ ہر ایک فعل اور حرکت اور سکون کا مرجع اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کو سمجھا جاوے اور ہر ایک امر میں اسی پر بھروسہ کیا جاوے کسی غیر اللہ پر کسی قسم کی نظر اور توکل ہرگز نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات میںاور صفات میں کسی قسم کا شرک جائز نہ رکھا جاوے۔ اس وقت مخلوق پرستی کے شرک کی حقیقت تو کُھل گئی ہے اور لوگ اس سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں اس لئے یورپ وغیرہ تمام بلاد میں عیسائی کوگ ہر روز اپنے مذہب سے متنفّر ہو رہے ہیں ۔چنانچہ روز مرہ کے اخباروںرسالوں اور اشتہاروں سے جو یہاں پڑھے جاتے ہیں اس بات کی تصدیق ہو تی ہے۔ الغرض مخلوق پرستی کو اب کوئی نہیں مانتا ۔ہاں اسباب پرستی کا شرک اس قسم کا شرک ہے کہ اس کو بہت سے لوگ نہیں سمجھتے ۔مثلاًکسان کہتا ہے کہ میَں جب تک کھتی نہ کرونگا اور وہ پھل نہ لاوے گی تب تک گذارہ نہیں ہو سکتا ۔اسی طرح ہر ایک پیشہ والے کو اپنے پیشہ پر بھروسہ ہے اور انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اگر ہم یہ نہ کریں تو پھر زندگی محال ہے ۔اس کا نام اسباب پرستی ہے اور یہ اس لئے ہے کہ خداتعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان نہیں ہے پیشہ وغیرہ تو درکنار پانی ،ہوا، غذاوغیرہ جب اشیاء پر مدارِزندگی ہے یہ بھی انسان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک خداتعالیٰ کا اذن نہ ہو ۔اسی لئے جب انسان پانی پئے تو اسے خیال کرنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی پیدا کیا اور پانی نفع نہیں پہنچاسکتا جب تک خداتعالیٰ کا ارادہ نہ ہو ۔خداتعالیٰ کے ارادے سے پانی نفع دیتا ہے اور جب خداتعالیٰ چاہتا ہے تو وہی پانی ضرر دیتا ہے۔