کھوٹ والا کام ہرگز نہیں کر نا چاہئیے اور لوگوں کو کہہ دیا کروکہ اب ہم نے تو بہ کرلی ہے جو ایسے کہتے ہیں کہ کھوٹ ملادو وہ گناہ کی رغبت دلاتے ہیں ۔پس ایسا کام اُن کے کہنے پر بھی ہرگز نہ کرو ۔بر کت دینے والا خدا ہے اور جب آسمی نیک نیتی کے ساتھ ایک گناہ سے بچتا ہے تو خدا ضرور بر کت دیتا ہے۔ مُردے اور اسقاط پھر سوال ہوا کہ ملّا ں لوگ مُردوں کے پاس کھڑے ہو کر اسقاط کراتے ہیں کیا اس کا کوئی طریق جائز ہے؟ فرمایا :۔اس کا کہیں ثبوت نہیں ہے ۔مُلّائوں نے ماتم اور شادی میں بہت سی رسمیں پیدا کر لی ہیں ۔یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ مقد مات میں مصنوعی گواہ بنانا ایک مختار کار عدالت نے سوال کیا کہ بعض مقد مات میں اگرچہ وہ سچا اور صداقت پر ہی مبنی ہو مصنوعی گواہ بنانا کیسا ہے ؟فر مایا :۔ اوّل تو اس مقدمہ کے پیرو کا ر بنو جو بالکل سچاہو ۔یہ تفتیش کولیا کرو کہ مقدمہ سچا ہے کہ جھوٹا۔ پھر سچ آپ ہی فروغ حاصل کر یگا۔دوم گواہوں سے آپ کا کچھ واسطہ ہی نہیں ہو نا چاہیئے۔ یہ موکل کا کام ہے کہ وہ گواہ پیش کرے۔ یہ بہت ہی بُری بات ہے کہ خود تعلیم دی جاوے کہ چند گواہ تلاش کرلائو اور ان کو یہ بات سکھا دو ۔تم خود کچھ بھی نہ کہو۔موکل خود شہادت پیش کرے خواہ وہ کیسی ہی ہو ۔ ہر صحیح بات کا ا ظہار ضروری نہیں پھر سوال ہوا کہ بعض باتیںواقعہ میں صحیح ہوتی ہیں مگر مصلحتِ وقت اور قانون ان کے اظہار کا مانع ہو تا ہے تو کیا ہم لاتکتموا الشھادۃ کے موافق ظاہر کودیا کریں ؟فر مایا :۔ یہ بات اس وقت ہو تی ہے جب آدمی آزاد بالطبع ہو ۔دوسری جگہ یہ بھی تو فرمایا ۔ لاتلقو بایدیکم الی التھلکۃ (البقر:۱۹۶) قانون کی پابندی ضروری شے ہے ۔جب قانون روکتا ہے تا رکنا چاہیئے جب کہ بعض جگہ اخفائِ ایمان بھی کرنا پڑتا ہے توجہاں قانون بھی مانع ہو وہاں کیوں اظہار کیا جاوے ؟جس راز کے اظہار سے خانہ بربادی اور تباہی آتی ہے وہ اظہار کرنا منع ہے۔ نتائج نیت پر مرتب ہو تے ہیں مکرر آتش بازی کے متعلق فرمایا کہ اس میں جزو گندھک کا بھی ہو تا ہے اور گندھک وبائی ہوا صاف کرتی ہے۔چنانچہ آج کل طاعون کے ایام میں مثلاًانار بہت جلد ہو اکو صاف کرتا ہے اور اگر کوئی شخص صحیح نیت اصلاحِ ہوا کے واسطے ایسی آتش بازی جس سے کوئی خطرہ نقصان کا نہ ہو چلاوے تو ہم اس