مرکزمیں نمازوںکا قصر نماز کے قصر کرنے کے متعلق سوال کیا گیا کہ جو شخص یہاں آتے ہیں وہ قصر کریں یا نہ ؟ فر ما یا :۔ جو شخص تین دن کے واسطے یہا ں آوے اس کے واسطے قصر جائز ہے میری دانست میں جس سفر میں عزم سفر ہو پھر خواہ وہ دوتین چار کوس کا ہی سفر کیوں نی ہو اس میں قصر جائزہے۔یہ ہماری سیرَ سفر نہیں ہے ۔ہاں اگر امام مقیم ہو تو اس کے پیچھیپوری ہی نماز پڑھنی چاہئیے ۔حکام کادورہ سفر نہیں ہو سکتا ۔وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے با غ کی سیرَ کرتا ہے ۔خواہ نخواہ قصر کرنے کا تو کو ئی وجودنہیں ۔اگر دوروں کی وجہ سے انسا ن قصر کر نے لگے تو پھر یہ دائمی قصر ہو گا جس کا کوئی ثبوت ہما رے پا س نہیں ہے حکا م کہاں مسافر کہلاتے ہیں ۔سعدیؒ نے بھی کہاہے ؎ منعم بکوہودشت وبیاباں غریب نیست ہرجاکہ رفت خمیہ ز د و خو ابگاہ سا خت نکاح پرباجااورآتش بازی نکاح پرباجا بجانے اورآتش بازی چلانے کے متعلق سوال ہوا فر ما یا کہ :۔ ہما رے دین کی بنایُسر پر ہے عسرپرنہیں اور پھر انماالاعمال با لنیات ضروری چیزہے باجوں کا وجود آنحضرت ﷺ کے زما نہ میں نہ تھا۔اعلان نکاح جس میں فسق وفجورنہ ہو ۔جائزہے بلکہ بعض صواتوں میں حروی شئے ہے کیونکہ اکثر دفعہ نکاحوں کے متعلق مقدما ت تک نوبت پہنچتی ہے پھر وراثت پراثر پڑتا ہے ۔اس لیے اعلان کر نا ضروری ہے مگر ا س میںکو ئی ایسا امرنہ ہو جو فسق و فجور کا موجب ہو ۔رنڑی کا تما شا یاآتش با زی فسق وفجوراور اسراف ہے یہ جائزنہیں ۔ با جے کے ساتھ اعلان پر پوچھا گیا کہ جب برات لڑکے والوں کے کھرسے چلتی ہے کیا اسی وقت سے با جا بجتا جاوے یا نکاح کے بعد ؟فر ما یا :۔ایسے سوالات اورجزودَر جزونکالنابے فا ئدہ ہے ۔اپنی نیت کو دیکھو کہ کیا ہے اگر اپنی شان وشوکت دکھانا مقصود ہے تو فضول ہے اور اگر یہ غرض ہے کہ نکاح کا صرف اعلان ہو تو اگر گھر سے بھی با جا بجتا جاوے تو کچھ حرج نہیں ۔اسلامی جنگوں میں بھی توباجابجتا ہے وہ بھی ایک اعلان ہی ہو تا ہے ۔ نیک نیتی میں برکت ہے ایک زرگرکی طرف سے سوال ہو اکہ پہلے ہم زیوروں کے بنانے کی مزدوری کم لیتے تھے اور ملاوٹ ملادیتے تھے ۔اب ملاوٹ چھوڑدی ہے اور مزدوری زیا دہ مانگتے ہیں تو بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم مزدوری وہی دینگے جو پہلے دیتے تھے تم ملاوٹ ملالو۔ایسا کا م ہم ان کے کہنے سے کریں یا نہ کریں ؟فر ما یا :۔