ـاس کی تشریح نسیم دعوت میں خوب کردی ہے۔ہر ایک زرہ ملا ئکہمیں داخل ہے کہ اگر ان اعلیٰ کی سمجھ نہیں آتی تو پہلے ان چھو ٹے چھوٹے ملائک پر نظر ڈال کر دیکھو ملائکہ کا انکار انسان کو ددہریہ بنا دیتا ہے
غر ض اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کو یہ دیکھانا مقصود ہے کہ ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی تابع ہے اگر اس سے انکار کیا جاوے تو پھرتو خدا تعالیٰ کا وجود بھی ثابت نہیں ہو سکتا اخیر میں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز اور حکیم بیان کی ہے یعنی اس کا غلبہ قہری ایسا ہے کہ ہر ایک چیز اس کی طرف رجوع کر رہی ہے بلکہ جب خداتعالیٰ کا قرب انسان حاصل کر تا ہے تو اس انسان کی طرف بھی ایک کشش پیدا ہو جا تی ہے۔جسکا ثبوت سو رۃالعادیات میں ہے عز یز ،حکیم سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ اس کا غلبہ حکمت سے بھر ا ہو ا ہے نا حق کا دکھ نہیں ہے۔
(الحکم جلد۷نمبر۱۵ صفحہ۹مورخہ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ئ)
۹؍اپریل۱۹۰۳ئ
(صبح کی سیرَ)
حق وباطل
فر ما یا:۔
حق اپنے زوراورقوت اور اس کے ساتھ باطل بھی ضرورچلتا ہے لیکن باطل اپنی قوت اور طاقت سے نہیں چلتا بلکہ ہے کیونکہ حق چاہتا ہے کہ ساتھ ساتھ کچھ باطل بھی چلے تا کہ تمیز ۔کا ذبوں اور منکروں کے وجود سے بہت سی تحریکیں ہو جا تی ہیں ۔مگر آنحضرت ﷺ کی بعثت کے دن ہی سارامکہّ آمنّا وصدقفاکہہ کرساتھ ہو لیتا تو پھر قرآن شیریف کا نزول اسی دن بندہو جا تا اور وہ اتنی بڑی کتا ب نہ ہو تی قدرزورسے با طل حق کی مخالفت کرتا ہے اسی قدرحق کی قوت اور طاقت تیز ہو تی ہے ۔زمینداروں میں بھی یہ با ت مشہور ہے کہ جتنا جیٹھ ہا ڑ تپتاپے اسی قدر ساون میں بارش زیادہ ہو تی ہے یہ ایک قدرتی نظارہ ہے حق کی جس قدرزور سے مخالفت ہو اسی قدر وہ چمکتا اور اپنی شوکت دکھا تا ہے ۔
ہم نے خودآزما کردیکھاہے جہاں جہاں پماری نسبت زیادہ شوروغل ہو ا ہے وہاں ایک جما عت تیا ر ہو گئی اور جہاں لوگ اس بات کو سنکرخاموش ہو جاتے ہیں وہاں زیادہ ترقی نہیں ہوتی ۔فتح کیلئے اوّل لڑائی کا ہو نا ضروری ہے اگر لڑائی نہ ہو تو فتح کا وجود کہاں سے آئے ؟پس اسی طرح اگر حق کی مخا لفت نہ ہو تو اس کی صداقت طرح کھُلے؟