شیعہ نے ازواج مطہرات کو سب دشتم سے دیا کیا ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ ایسا کریںگے اس لیے ازوقت اُن کی برأت کردی۔
بعض مخالفین کا طاعون سے بچنا
سوال :۔ بعض مخالف کہ ہم پر کیوںطاعون نہیں آتی؟
جواب:۔ فر ما یا کہ :۔
ایک تنگ دروازہ سے جب لاکھ آدمی گذرنے والاہے تو کیا وہ سب کے سب ایک ہی دفعہ گذرجائینگے؟یا کسی آدمی نے لاکھ آدمی کی دعوت کی ہے تو کیا سب کو ایک دم کھا نا کھلادیگا؟ نہیں بلکہ نو بت بہ نوبت۔
طاعون کا دورہ بہت لمبا ہے ابھی سے کیوں گھبراتے ہیں ۔دوچارموٹے مخالفوں کی ہی وجہ سے توانواروبرکا ت اور خوارق کا نزول ہو تا ہے اور ہو گا ۔ابھی کو ہذایتبھی ہو گی اور خدا تعالیٰ کا قانون اسی طرح پرچلاآتا ہے ۔
کیف تحی الموتی کی تفسیر
سوال :۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا رب ارنی کیف تحی الموتی (البقرہ:۲۶۱)اس سے کیاغرض ہے ؟
جواب:۔ اُس میں اللہ تعالیٰ کا مطلب جس کوسّرِالہیٰ سمجھنا چاہئیے یہ ہے کہ ہرایک چیزمیریآوازسنتی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مردوںکے زندہ ہو نے پر کو ئی شک پیدانہیں ہو ا ۔کیونکہ ہم تو ہرروزدیکھتے ہیں کہ متعفن پا نی اور اغذیہ میں سے جا نور پیداہو جاتے ہیں ۔پیٹ میں بچہ پیداہو جا تا ہے کیا وہ پہلے مردہ نہیںہو تا ؟پس واقعات سے انکار کر نے والا تو بڑا احمق ہو تا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام تو اصل ّسرسے واقف ہو نا چاہتے تھے پس خدا تعالیٰ نے فر ما یا کہ ہرایک چیزمیری آوازسنتی ہے جیسے پرندے تمہاری آواز سنکردوڑے چلے آتے ہیں اسی طرح ہر ایک چیزمیری آواز سنتی اورمیرے پاس دوڑی چلی آتی ہے ۔یہانتک کہ ادویہ اوراغذیہ جو انسا ن کے پیٹ میں جا تی ہیںاور ہرذرّہ ذرّہ میری آوازسنتا ہے پس یہاں اللہ تعالیٰ ایمان اورمعرفت کا یقین دلانا چاہتاہے ۔
اس سے معلوم ہو تا ہے کہ مخلوق کو خالق سے ایک باریک کشش ہو تی ہے جیسے کسی کا شعرہے ؎
ہمہراروئیدرخدا دیدم : وآںخدابرہمہ ترایدم
خدا تعالیٰ نے جو ملائک کی تعریف کی ہے وہ ہر ایک ذرّہ ذرّہ پرصادق آسکتی ہے جیسے فر ما یا
ا ن من شییء الایسبح بحمدہ(اسرائیل :۴۵)
ویسے ملائکہ کی نسبت فر ما یا
یفعلون مایومرون (الخل:۵۱)